سکھر: سول اسپتال سکھر میں جاری بدحالی نے ایک بار پھر محکمۂ صحت کی کارکردگی، کرپشن اور بدانتظامی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ حکومتی دعوے زمینی حقائق کے سامنے بے معنی دکھائی دے رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے تعینات میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کی آمد کے باوجود اسپتال کی صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آ سکی، بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ اسپتال میں سرگرم مبینہ کرپٹ مافیا کے سامنے بے بس ہو چکی ہے۔
سول اسپتال میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں بنیادی ادویات کی شدید قلت ہے۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ علاج کے لیے سرکاری اسپتال آنے کے باوجود انہیں واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ ادویات دستیاب نہیں، بازار سے خرید کر لائی جائیں۔
ایک مریض کے لواحقین نے کہا کہ اگر ان کے پاس دوائیں خریدنے کے وسائل ہوتے تو وہ سرکاری اسپتال کا رخ ہی نہ کرتے۔ایک بزرگ مریض نے آبدیدہ لہجے میں کہا کہ سول اسپتال اب علاج گاہ کے بجائے غریبوں کے لیے ایک آزمائش بن چکا ہے، جہاں سہولیات کے بجائے محرومی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق سول اسپتال سکھر کو سالانہ کروڑوں روپے کا بجٹ فراہم کیا جاتا ہے، تاہم اس کے باوجود وارڈز میں بنیادی ادویات نایاب ہیں۔ شہریوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے کاغذی ریکارڈ میں تمام ادویات دستیاب ظاہر کی جاتی ہیں، جبکہ عملی طور پر مریض خالی ہاتھ واپس جانے پر مجبور ہیں۔
شہریوں کا سوال ہے کہ اگر ادویات واقعی موجود ہیں تو مریضوں کو باہر سے خریدنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے، اور اگر ادویات موجود نہیں تو ریکارڈ میں ان کی دستیابی کس مقصد کے تحت ظاہر کی جا رہی ہے۔سماجی کارکنوں اور شہری نمائندوں نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نئے ایم ایس نے چارج سنبھالتے ہی اسپتال کو مثالی ادارہ بنانے، کرپشن کے خاتمے اور مریضوں کو مکمل سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کیے تھے، تاہم عملی صورتحال ان دعوؤں کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ ایک سماجی رہنما نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اصلاحات شاید صرف بیانات اور سوشل میڈیا تک محدود رہ گئی ہیں۔
شہریوں نے ایم ایس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کو محض یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے تبدیلی کا ثبوت دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر واقعی بہتری آئی ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آ رہی، اور کیوں آج بھی غریب مریض ادویات، توجہ اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔عوامی حلقوں نے وزیرِ صحت سندھ اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سول اسپتال سکھر میں ادویات کی خریداری، اسٹور ریکارڈ اور بجٹ کے استعمال کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اب مزید وعدوں کے بجائے عملی کارروائی اور جواب دہی ناگزیر ہو چکی ہے۔سول اسپتال سکھر کی موجودہ صورتحال ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ نظام میں موجود بدعنوانی کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ غریب اور بے سہارا عوام کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔


