لاڑکانہ: لاڑکانہ میں سال 2021 کے دوران آئی بی اے کے ذریعے پی ایس ٹی اور جے ای ایس ٹی کی نوکریوں کے لیے ٹیسٹ دینے والے ویٹنگ امیدواروں نے آفر آرڈر نہ ملنے کے خلاف لاڑکانہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور شدید نعرے بازی کی۔اس موقع پر احتجاج کرنے والے امیدواروں صدام سانڈانو، سجاد چانڈیو، فرید عباسی، مریم عباسی، فائزہ سومرو، محمد سلیم مستوئی اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سال 2021 میں آئی بی اے کے ذریعے پی ایس ٹی اور جے ای ایس ٹی کی اسامیوں کے لیے ٹیسٹ دیا تھا، جس میں انہوں نے 40 سے 50 نمبرز حاصل کر کے میرٹ پر کامیابی حاصل کی، اس کے باوجود انہیں نوکریوں کے آفر آرڈر جاری نہیں کیے گئے اور دانستہ طور پر ویٹنگ لسٹ میں رکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی امیدوار گزشتہ 174 دنوں سے اپنے جائز حق کے لیے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس دوران کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا گیا اور ببرلو قومی شاہراہ پر مختلف اوقات میں دھرنے بھی دیے گئے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کے باوجود کوئی منتخب نمائندہ، وزیر یا مشیر ان سے ملاقات کے لیے نہیں آیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی کے حلقے کے 40 پلس نمبرز لینے والے امیدواروں کو نوکریوں سے محروم رکھا گیا، جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ اور دیگر وزرا کے حلقوں میں 33 سے بھی کم نمبرز حاصل کرنے والے ناکام امیدواروں کو بھی آفر آرڈر جاری کر کے روزگار فراہم کیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ میں دوہرا معیار رائج ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس این ای اور ایس ٹی آر پالیسی کے مطابق ضلع لاڑکانہ میں اس وقت 1600 سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں، جبکہ سال 2021 سے اب تک متعدد اساتذہ اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہو چکے ہیں، جس کے باعث خالی آسامیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان خالی نشستوں پر ویٹنگ امیدواروں کا حق بنتا ہے، مگر اس کے باوجود انہیں نظر انداز کر کے ویٹنگ لسٹ کی مدت پوری ہونے کا جواز پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اس دوران امیدواروں کی عمروں میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ کسی نئی ملازمت کے لیے بھی درخواست دینے کے قابل نہیں رہے۔احتجاج کرنے والوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنے جائز حق کے حصول کے لیے 22 اور 23 دسمبر کو لاڑکانہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کر کے بھوک ہڑتال کریں گے۔ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو 25 دسمبر کو لاڑکانہ سے گڑھی خدا بخش بھٹو تک پرامن پیدل مارچ کیا جائے گا اور شہداء کے مزارات کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے کے بعد دھرنا دیا جائے گا، جس میں سندھ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے ویٹنگ امیدوار شریک ہوں گے اور انصاف کی اپیل کی جائے گی۔ اس کے باوجود بھی اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو سندھ اسمبلی، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور بلاول ہاؤس کے سامنے دھرنے دے کر سخت احتجاج کیا جائے گا۔
آخر میں مظاہرین نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، شریک چیئرمین و صدر پاکستان آصف علی زرداری اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر بھرتی پالیسی میں ترمیم کی جائے، گزشتہ عام انتخابات کے دوران بھرتیوں پر عائد پابندی کے عرصے کو ویٹنگ ٹائم پیریڈ میں شامل کیا جائے اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق تمام ویٹنگ امیدواروں کو ڈویژنل اور صوبائی سطح پر آفر آرڈر جاری کر کے روزگار فراہم کیا جائے۔

رپورٹ نادر مائری


