لاڑکانہ: سندھ دھرتی کے عظیم فلسفی، دانشور اور وطن دوست رہنما کامریڈ سوبھو گیانچندانی کی 11ویں برسی ان کے گھر میں سادگی کے ساتھ منائی گئی۔ تقریب میں اُن کے صاحبزادے نرمل داس گیانچندانی، ادیب و شاعر اور مترجم جام جمالی، کامریڈ کے ساتھی میرُل ابڑو، ڈاکٹر میر محمد شیخ سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے کامریڈ سوبھو کے مجسمے پر پھول چڑھا کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کامریڈ سوبھو کے صاحبزادے نرمل داس نے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والد آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال برسی اور سالگرہ کے موقع پر گھر میں سادگی سے تقریب منعقد کی جاتی ہے، جس میں خاندان اور اُن کے دوست انہیں یاد کرتے ہیں۔ نرمل داس نے افسوس کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت نے کامریڈ کی یادگار کے حوالے سے جو وعدے اور اعلانات کیے تھے، ان پر آج تک کوئی عمل نہیں ہوسکا۔انہوں نے بتایا کہ موئن جو دڑو کے قریب آبائی گاؤں بنڈی میں یادگار، کمیونٹی سینٹر اور خیراتی اسپتال کی تعمیر کے لیے گاؤں والوں نے دو جریب زمین دی تھی۔ چار سال پہلے دس لاکھ روپے خرچ کرکے ابتدائی کام شروع کیا گیا تھا مگر فنڈ نہ ملنے کے باعث منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ وہاں رکھی تعمیراتی چیزیں بھی چوری ہوگئیں۔ کچھ دوستوں نے مالی مدد کا وعدہ کیا تھا مگر آج تک کسی نے مدد فراہم نہیں کی۔
نرمل داس نے بتایا کہ وہ ریٹائرڈ ملازم ہیں، پینشن میں گھر کا خرچ پورا کرنا بھی مشکل ہے، ایسے میں یادگار کی تعمیر آگے بڑھانا ممکن نہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ادیب اور مترجم جام جمالی نے کہا کہ کامریڈ سوبھو ایک عظیم شخصیت تھے جن کا عملی، ادبی، انقلابی، انسانی اور وطن پرست کردار بے مثال تھا۔ وہ شانتی نکتن موسیقی سیکھنے گئے مگر وہاں سے انقلابی سوچ لے کر آئے۔ وہ مذہبی تفرقہ بازی سے ہمیشہ دور رہے اور انسان دوستی کو ترجیح دی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں دولت، عورت اور شراب جیسی کمزوریوں سے ہمیشہ دوری اختیار کی۔ اُن کی رگ رگ میں وطن پرستی شامل تھی۔ جام جمالی نے افسوس کا اظہار کیا کہ ثقافت کے اداروں اور صوبائی حکومت کی جانب سے کامریڈ سوبھو کی برسی اور سالگرہ پر کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا، جبکہ ایسی عظیم شخصیات پر سرکاری سطح پر پروگرام ہونا چاہئیں تاکہ نوجوان نسل ان سے رہنمائی حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ کامریڈ طبقاتیت اور ناانصافی کے خلاف تھے اور انہوں نے آخری سانس تک انسان کی عزت و برابری کے لیے جدوجہد کی۔ مشہور شاعر ٹیگور نے انہیں "مین آف موئن جو دڑو” کا لقب دیا تھا، جبکہ میں انہیں "اسٹرونگ مین آف لاڑکانہ” کہوں گا کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اصولوں پر قائم رہ کر گزاری۔کامریڈ کے گاؤں کے رہائشی میرُل ابڑو نے بتایا کہ کامریڈ کے قول اور فعل میں کبھی فرق نہیں تھا۔ وہ جو کہتے تھے اس پر خود عمل کرتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ مذہبی انتہا پسندی سے دور رہ کر انسان دوستی کو اپنایا، اسی لیے گاؤں کے لوگ انہیں اپنا سمجھتے تھے۔ وہ لوگوں کو کتابیں پڑھاتے، علم دیتے اور غریبوں کی مالی مدد کرتے تھے۔ میرُل ابڑو نے کہا کہ ایک بار گاؤں کے ایک ہاری نے کامریڈ کی دو جریب زمین پر قبضہ کرلیا تھا، جسے کامریڈ کے بڑے بھائی نے مقدمہ کرکے جیل بھجوا دیا، مگر کامریڈ نے نہ صرف اسے آزاد کرایا بلکہ دونوں جریب زمین بھی اس کے نام کردی تاکہ وہ کھیتی باڑی کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔ شرکاء نے کہا کہ کامریڈ سوبھو گیانچندانی کی جدوجہد، سوچ، انسان دوستی اور وطن پرستی آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ ہماری دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

رپورٹ نادر مائری


