خواتین کی صحت اور بچوں کی بہترنشونما کیلئے یورپی یونین کا طویل منصوبہ مکمل ، اختتامی تقریب سکھر میں

شیئر کریں

سکھر: سندھ میں غذائیت کے موضوع پر یورپی یونین کا 6 ملین مالیت کا دو سالہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا، سندھ کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع سکھر، کشمور، گھوٹکی، خیرپور اور نو شہروفیرز میں غذائیت سے متعلق منصوبہ میں واضح پیش رفت ہوئی، غذائیت کے نظام کو بہتر بنانے میں معاونت ملی. اس حوالہ سے منعقدہ ڈسیمنیشن اور پروجیکٹ کلوز آؤٹ ایونٹ میں وزیر صحت و بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی. وزیر صحت سندھ نے اپنے خطاب میں یورپی یونین کی کاوشوں کو سراہا، ایک دہائی پر مبنی شراکت داری کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان میں غذائیت کا مسئلہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اور اسی لیے ہماری اولین ترجیح بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند زندگی کا فروغ ہے۔

حاملہ خواتین کی غذائیت، بچوں کی نشوونما اور خاندان میں مناسب وقفہ نہایت ضروری ہے، جس میں مردوں کا کردار بھی اہم ہے۔ ہم کمیونٹی کی شمولیت، یونیورسٹیوں میں قائم غذائیت کے مراکز، اور نئے ڈاکٹروں کی تربیت کے ذریعے غذائیت کے نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ سندھ کے ہر بچے کو بہتر اور صحت مند مستقبل فراہم کیا جا سکے۔ بعد ازاں منصوبہ کے حوالہ سے آگاہی دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران، سندھ میں غذائیت کے نظام کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ سول سوسائٹی کی قیادت کو مضبوط بنایا، سروس ڈیلیوری کو بہتر کیا اور شواہد پر مبنی ایڈواکیسی کو فروغ دیا۔ پندرہ سول سوسائٹی تنظیموں کی استعداد کار میں اضافہ کیا گیا تاکہ وہ جوابدہ اور کمیونٹی پر مبنی غذائیتی اقدامات کی قیادت کر سکیں۔ یہ تنظیمیں صوبائی اور ضلعی سطح کے کوآرڈینیشن میکانزم میں فعال کردار ادا کرنے لگیں، جہاں انہوں نے پالیسی سطح پر اپنا کرداد ادا کیا اور پروگراموں کے تسلسل کے لیے ڈونرز کی جانب سے فنڈنگ بھی یقینی بنائی۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے