بلاول بھٹو کے سیاسی سیکریٹری جمیل سومرو کے اعزاز میں وکلا کی تقریب، لاڑکانہ کے مسائل سے آگاہ

شیئر کریں

لاڑکانہ: لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی سیکریٹری اور رکن سندھ اسمبلی جمیل احمد سومرو کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں بار کے صدر محمد اسماعیل ابڑو، جنرل سیکریٹری غلام مصطفیٰ مگسی، خزانچی عارف کلہوڑو، آصف عبدالرزاق سومرو، پیپلز لائرز فورم کے صدر محمد ریاض سومرو، ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین اعجاز لغاری، اکبر علی دہر، ظفر سومرو سمیت وکلا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

وکلا نے جمیل احمد سومرو کو سندھ کی روایتی ٹوپی اور اجرک کا تحفہ پیش کیا اور اپنے مسائل و مطالبات تحریری طور پر ان کے سامنے رکھے۔ جمیل احمد سومرو نے بار کے عہدیداروں کو اعتماد دلایا کہ ان کے مسائل کے حل اور مطالبات کی منظوری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد سومرو نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو 1973 کا متفقہ آئین دیا، جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور بنگلہ دیش سے متعلق اہم ترامیم بھی ہوئیں۔ بعد ازاں ضیاء الحق اور دیگر آمروں کے دور میں آئین میں متعدد ترامیم کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ وکلا ہمیشہ آزاد عدلیہ اور انصاف کے حامی رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عدالتوں نے اکثر کمزور کے بجائے طاقتور کا ساتھ دیا، حالانکہ وکلا کی خواہش رہی ہے کہ کمزور کو مکمل تحفظ اور انصاف ملے۔ اختلاف رائے ہونا اچھی بات ہے مگر وہ مہذب انداز میں ہونا چاہیے اور اصل جیت ہمیشہ دلیل کی ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 26ویں ترمیم کے وقت پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان آئینی عدالت کے قیام پر اختلاف رہا تھا، جبکہ پیپلز پارٹی اور وکلا کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا ہے۔ 12 مئی کے سانحے میں پیپلز پارٹی کے 12 کارکن شہید ہوئے، جبکہ اسلام آباد کی ایف 8 کچہری میں خودکش دھماکے میں 23 کارکنوں نے جان دی۔ جمیل سومرو نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ججوں کی نظر بندی کے خلاف جدوجہد کی اور عدلیہ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اسی عدلیہ نے پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کو خط نہ لکھنے پر عہدے سے ہٹایا۔انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے 18ویں ترمیم کے ذریعے اپنے تمام اختیارات پارلیمنٹ کو واپس دیے اور 58 ٹو بی کا خاتمہ کیا، جس کے بعد یہ اختیار ججوں نے خود استعمال کرنا شروع کیا۔ اسی وجہ سے منتخب وزرائے اعظم کو بار بار نااہل کیا گیا، جس کا شکار نواز شریف بھی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں عدالتوں نے یہاں تک کہا کہ منتخب نمائندوں کو آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار نہیں، جبکہ بعض مواقع پر عدالتی فیصلوں کے تحت آئین میں ترامیم کی گئیں۔ چیف جسٹس کی جانب سے ڈیم فنڈ قائم کرنا بھی ایک غیر معمولی عمل تھا، اور اگر یہ مداخلتیں نہ ہوتیں تو آج بہت سے تنازعات جنم نہ لیتے۔جمیل سومرو نے کہا کہ آئینی معاملات کے لیے آئینی عدالت قائم ہوچکی ہے۔ عدلیہ کو کسی ترمیم کے ذریعے پابند نہیں کیا گیا، جبکہ آئینی عدالت میں جج برابری کی بنیاد پر مقرر کیے جائیں گے تاکہ اہم آئینی مقدمات پر بہترین فیصلے سامنے آئیں۔

رپورٹ نادر مائری


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے