"استثنا کا مطالبہ اور انصاف کی گمشدگی قوم کے ضمیر کا امتحان”
سکھر/اسلام آباد: پاکستان میں 26ویں آئینی ترمیم اور مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے گرد جاری بحث اب محض سیاسی مباحثے تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک وسیع فکری اور اخلاقی سوال میں بدل گئی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سی شق شامل یا حذف کی جائے، بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے شہریوں کو برابر حقوق فراہم کرنا چاہتی ہے یا طاقتور حلقوں کے لیے الگ راستے تراشے جا رہے ہیں۔اسلام کے بنیادی اصولوں میں کسی قسم کا استثنا نہیں ہے۔ دینِ اسلام ہر انسان کو برابری کی بنیاد پر کھڑا کرتا ہے اور حکمران و رعیت دونوں ایک ہی عدالت کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ تاریخی حوالہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال دی جاتی ہے، جب وہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اقتدار یا حفاظتی پردے کا سہارا نہیں لیا۔ آج اگر ایک خلیفہ استثنا کا مستحق نہیں تھا تو موجودہ حکمران کس دلیل پر اس حق کے طلبگار ہیں۔سب سے اہم اور پیچیدہ سوال نئے آئینی عدالت کے قیام سے متعلق ہے۔ اگر آئین کی تشریح کے لیے ایک علیحدہ عدالت قائم کر دی جائے تو موجودہ سپریم کورٹ کی حیثیت متاثر ہوگی۔ سپریم کورٹ وہ ادارہ ہے جو آئین کی حفاظت، ریاستی توازن اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا ستون ہے۔ اختیارات کی منتقلی سے نہ صرف عدالتی ڈھانچہ متاثر ہوگا بلکہ انصاف کا تصور بھی دھندلا جائے گا۔ماہرین کے مطابق طاقتور طبقہ وہ دروازہ منتخب کرے گا جہاں اسے رعایت مل سکے، جبکہ کمزور طبقہ ہمیشہ اس دروازے کے سامنے کھڑا رہے گا جو بند ہے۔ قانونی ترازو پہلے ہی غیر مساوی ہے اور نئی عدالتیں قائم کر کے سپریم کورٹ کی حیثیت کمزور کرنے سے انصاف مزید دور ہوگا۔ماہرین قانون اور سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاست صرف قوانین سے نہیں بلکہ نیت اور مقصد سے بنتی ہے۔ اگر نیت انصاف کی ہو تو ایک شق بھی قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے، لیکن اگر نیت ذاتی مفاد کی ہو تو سو ترامیم بھی اثر نہیں رکھتیں۔ موجودہ معاملہ آئینی ترامیم سے زیادہ طاقت کے گرد گھومتے ہوئے نظام کا ہے، جہاں جوابدہی کمزوروں کے لیے لازمی اور طاقتور کے لیے غیر ضروری ہے۔تحقیق اور تاریخی تجزیہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کو وہی نظام چاہیے جہاں قانون ہر شخص کے لیے برابر ہو۔ اسلامی تاریخ سے جدید ریاستی اصولوں تک، سبق ایک ہی ہے: انصاف کی برابری قوموں کو جیت دلاتی ہے۔ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ آئینی ترمیم کا نہیں بلکہ انصاف کی غیر موجودگی کا ہے۔ جب تک قانون سب کے لیے ایک جیسا نہیں ہو جاتا، کوئی بھی آئینی ترمیم، نئی عدالت یا اصلاحات قوم کے لیے حقیقی حل نہیں فراہم کر سکتیں۔


