مہدویہ جونپوری فرقہ کے عقائد اسلام سے انحراف قرار، علماء کا متفقہ فتویٰ
سانگھڑ:
جمیعت علمائے اسلام ضلع سانگھڑ کے امیر مولانا شعیب حسن عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہدوی تحریک کے عقائد اسلام کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں اور یہ فرقہ دینِ محمدی ﷺ سے کھلی بغاوت کا مظہر ہے۔ ہمارے اکابرین و محققین کے مطابق مہدوی نظریات میں عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی صریح نفی اور انبیائے کرامؑ کی شان میں گستاخانہ تصورات پائے جاتے ہیں۔ ماہرینِ دینیات کے مطابق مہدوی تحریک ایک ایسی فتنہ پرور تحریک ہے جو وقت کے ساتھ گمراہی کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
ان کے نزدیک دین کی بنیاد دو حصوں پر قائم ہے۔ ایک نبوت اور دوسری ولایت اور ان کے مطابق ولایت محمدی کی تبلیغ کے لیے سید محمد جونپوری کو خدا نے مبعوث کیا۔مہدوی حضرات اپنے بانی کو خدا کا فرستادہ اور پیغمبر مانتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ سید محمد جونپوری مفترض الطاعۃ ہیں اور ان کی اطاعت ہر شخص پر لازم ہے اور جو جونپوری کو مہدی موعود نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ وہ ولایت کو نبوت سے افضل قرار دیتے ہیں اور سید محمد کو نبیوں اور صحابہ کرامؓ سے بھی بڑھا ہوا درجہ دیتے ہیں۔

مہدوی گروہ مختلف انبیاء کے ایمان کو جسمانی حصوں سے منسوب کرتا ہے، جیسے حضرت آدمؑ ناک سے سر تک، حضرت نوحؑ حلق سے سر تک مومن قرار دیے گئے، اور حضرت عیسیٰؑ کے ایمان کو نزولِ ثانی پر مکمل بتایا گیا ہے۔ علماء کے مطابق یہ نظریہ نہ صرف گستاخانہ بلکہ ایمان و عقیدہ کی سرحدوں سے باہر ہے۔ مہدوی تحریک نے قرآن و حدیث کو اپنی مرضی کے مطابق منطبق کرنے کا نظریہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق جو بات سید محمد جونپوری کے اقوال سے میل کھاتی ہے وہی قابلِ قبول ہے، باقی سب مردود۔ ان کا ماننا ہے کہ سید محمد جونپوری پر وحی نازل ہوتی تھی اور وہ معصوم عن الخطاء تھا، حالانکہ اسلام میں ختمِ نبوت ﷺ کے بعد کسی وحی یا عصمت کا تصور ممکن نہیں۔
مہدوی حضرات نے فرائضِ عبادت میں بھی من گھڑت ترامیم کر رکھی ہیں۔ ان کے ہاں نمازوں کی تعداد پانچ کے بجائے چھ ہے، عشر کے نام پر اپنی کمائی کا دسواں حصہ مہدوی مرشد کو دینا لازم ہے، اور وطن کو چھوڑ کر مہدوی صحبت اختیار کرنا ہر شخص پر فرض سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ دعا کے لیے ہاتھ نہیں اُٹھاتے، جمعہ کے خطبے کو تسلیم نہیں کرتے، اور ستائیسویں رمضان کو مخصوص وقت پر دوگانہ لیلۃالقدر فرض نماز اپنے جونپوری کی اتباع میں ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مہدوی حضرات اپنے بانی کو بعض خدائی صفات میں شریک مانتے ہیں۔ وہ انہیں علمِ غیب اور “کن فیکون” کی طاقت کا حامل قرار دیتے ہیں، جو واضح شرک ہے۔ شیخ علی متقی رحمتہ اللہ کے استفسار پر علماءِ حرمین نے چاروں فقہی مسالک کے جلیل القدر علماء کے دستخط سے سید محمد جونپوری اور ان کے متبعین کو کافر و مرتد قرار دیا تھا۔ پاکستان کے معروف مفتیانِ کرام نے بھی اس موقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ مہدوی تحریک عقیدہ ختمِ نبوت ﷺ کی منکر اور دینِ اسلام سے خارج ہے۔
علماء کرام نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ مہدوی تحریک جیسے گمراہ فرقوں کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں، نوجوان نسل کو ان کے باطل نظریات سے محفوظ رکھیں، اور عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے تحفظ کو اپنا دینی و ایمانی فریضہ سمجھیں۔ دینی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہدوی تحریک کا فکری ڈھانچہ، عقائد اور نظریات نہ صرف اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ ان کے نظریات کی مذمت تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے متفقہ طور پر کی ہے۔

رپورٹ وقار بھٹی


