سندھ کے سرکاری اسپتالوں کی کروڑوں روپے مالیت کی ادویات چوری کا انکشاف، سکھر سمیت اندرونِ سندھ نجی گوداموں سے سرکاری ادویات کی فراہمی حساس اداروں کی تحقیقات شروع
سکھر: سکھر سمیت اندرونِ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی کروڑوں روپے مالیت کی ادویات چوری ہونے اور نجی گوداموں سے فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق، محکمہ صحت سندھ کی جانب سے مستحق اور غریب مریضوں کے لیے فراہم کی جانے والی "ناٹ فار سیل” (Not for Sale) ادویات منظم مافیا کے ذریعے نجی گوداموں اور ہول سیل مارکیٹوں میں پہنچائی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق سندھ سیکریٹریٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہر سال صوبے کے سرکاری اسپتالوں کو بھجوائی جانے والی تقریباً 85 فیصد ادویات نہ صرف غیر معیاری بلکہ کم مقدار میں اسپتالوں تک پہنچتی ہیں، جب کہ بڑی مقدار نجی مافیا کے قبضے میں چلی جاتی ہے۔ ان ادویات کی چوری میں مبینہ طور پر محکمہ صحت کے کرپٹ افسران، اسٹور کیپرز اور میڈیسن کنٹریکٹرز شامل ہیں، جو کئی برسوں سے ملی بھگت کے ذریعے یہ غیر قانونی کاروبار چلا رہے ہیں۔عوامی ٹیکسوں کے پیسے سے خریدی گئی یہ ادویات، جو مستحق مریضوں کے لیے تھیں، اب کرپشن کی نذر ہو رہی ہیں۔ نتیجتاً اسپتالوں میں مریض ادویات کی کمی کے باعث اذیت میں مبتلا ہیں اور کئی مریض زندگی و موت کی کشمکش کا شکار ہیں۔اس حوالے سے سکھر ڈرگ انسپکٹر میڈم شفق شفیق چاچڑ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حساس اداروں کے تعاون سے کیے گئے ایک خفیہ آپریشن کے دوران مختلف نجی گوداموں اور ہول سیل مارکیٹوں سے 30 سے زائد کمپنیوں کی سرکاری ادویات کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جن پر تحقیقاتی عمل جاری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ “تحقیقات کے دوران کچھ افسران کی جانب سے دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے کیونکہ ان کے ذاتی مفادات متاثر ہو رہے ہیں۔ تاہم ہم کسی دباؤ میں آئے بغیر کارروائی جاری رکھیں گے۔”میڈم شفق شفیق نے انکشاف کیا کہ سکھر، منڈو ڈیرو اور دیگر علاقوں سے برآمد ہونے والی سرکاری ادویات کی تصدیق بھی مکمل ہو چکی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، بعض بڑے میڈیسن ہول سیلرز، اسپتالوں کے ٹھیکیداروں اور محکمہ صحت کے ملازمین کے نام بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس اداروں کی جانب سے مکمل رپورٹ کی تیاری جاری ہے، جس کے بعد اس اسکینڈل میں ملوث عناصر کے خلافر قانونی کارروائی کا باضابطہ آغاز کیا جائے گا۔

رپورٹ رضوان لودھی


