سکھر شہر میں انکروچمنٹ اور غیر قانونی پارکنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا
سکھر:سکھر کے مختلف علاقوں میں انکروچمنٹ، غیر قانونی پارکنگ اور لوڈر چنگچی گاڑیوں کی آمد و رفت نے شہریوں، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ شاہی بازار، گھنٹہ گھر، نشتر روڈ، غریب آباد، اور دیگر مرکزی علاقوں میں روزانہ ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جس کے باعث عوام کو پیدل چلنا بھی محال ہو گیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بازاروں کے اندر دکانداروں نے فٹ پاتھوں اور سڑکوں تک قبضہ جما رکھا ہے جبکہ لوڈر چنگچی اور ریڑھی والے دن بھر سڑکوں پر مال اتارتے اور لوڈ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ دکانداروں کی جانب سے تجاوزات کے باعث خواتین، بزرگ اور اسکول جانے والے بچوں کو راستہ ملنا دشوار ہو گیا ہے۔عوامی، سیاسی و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر سکھر، کمشنر سکھر، اور نئی تعینات ہونے والی اسسٹنٹ کمشنر میونسپل و انکروچمنٹ انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر شہر بھر میں مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈر اور چنگچی گاڑیوں کے لیے صبح کے اوقات مخصوص کیے جائیں تاکہ دن کے وقت بازاروں میں عوام کو آمد و رفت میں سہولت میسر ہو۔شہریوں نے مزید کہا کہ سکھر شہر سندھ کا اہم تجارتی و تاریخی مرکز ہے، مگر انکروچمنٹ اور بے ہنگم پارکنگ نے اس کی خوبصورتی اور نظام کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے حادثے یا جانی نقصان کا خدشہ ہے۔عوام نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ تجاوزات ختم کرنے، غلط پارکنگ کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور شہری زندگی کو معمول پر لانے کے لیے مستقل بنیادوں پر مؤثر مہم چلائی جائے تاکہ سکھر شہر کو صاف، منظم اور پرسکون بنایا جا سکے۔

رپورٹ رضوان لودھی


