لاڑکانہ: رحمت پور گاسلیٹ ڈپو کالونی میں وکیل اور علاقہ مکینوں کے درمیان دیوار توڑنے کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوگئی، جس کے بعد متاثرہ افراد نے لاڑکانہ پریس کلب پہنچ کر احتجاج کیا۔ کالونی کے مالک فیاض علی عباسی کی قیادت میں علاقہ مکینوں، سماجی و سیاسی شخصیات غلام مصطفیٰ آریجو، خادم حسین برڑو، رب رکھیو چانڈیو، سبتر علی لغاری، کامریڈ خان آریجو، پیپلز پارٹی شہید بھٹو کے رہنما غلام رسول عمراڻي، لاڑکانہ سماجی اتحاد کے صدر لیاقت علی عمراڻي، آل پاکستان آریجا جاموٹ اتحاد کے سینئر وائس چیئرمین منظور آریجو، جنرل سیکریٹری احسان آریجو سمیت دیگر افراد نے پریس کلب کے سامنے وکیل محرم جونیجو کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 22 اکتوبر کی دوپہر وکیل محرم جونیجو نے رحمت پور گاسلیٹ ڈپو کالونی کی دیوار زبردستی توڑ کر کالونی کی جانب اپنا دروازہ نصب کردیا۔ جب علاقہ مکینوں نے اسے اس عمل سے روکا تو وہ ناراض ہوگیا اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وکیل محرم جونیجو اور اس کے بھائی عمران، جبران اور حنان جونیجو نے کالونی کی اندرونی گلی میں غیرقانونی طور پر اسلحے کے زور پر دروازہ لگایا ہے، جبکہ ان کی جانب سے اس راستے کا کوئی قانونی حق بھی موجود نہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، لاڑکانہ بار کونسل، ڈی آئی جی پولیس لاڑکانہ اور ایس ایس پی لاڑکانہ سے اپیل کی کہ وکیل کی مبینہ زیادتیوں کو روکا جائے، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور علاقہ مکینوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

رپورٹ نادر مائری


