غلام مرتضیٰ جتوئی سیشن کورٹ لاڑکانہ میں پیش، تفتیشی غیرحاضر، سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی

شیئر کریں

لاڑکانہ:گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جی ڈی اے کے مرکزی رہنما اور نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مرتضیٰ جتوئی ڈوکری اور باڈہ تھانوں میں درج مقدمات کے سلسلے میں فرسٹ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج لاڑکانہ کی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں تفتیشی افسر کی عدم حاضری کے باعث عدالت نے سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا کہ آج کیس کے تفتیشی افسر کو پیش ہونا تھا، لیکن وہ جان بوجھ کر پیش نہیں ہوا۔ “میں چار اضلاع کا سفر طے کرکے یہاں پہنچتا ہوں، مگر تفتیشی افسر ڈوکری سے لاڑکانہ نہیں آتا،“ انھوں نے کہا۔ عدالت نے اس بنا پر کیس کی سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان مقدمات میں کچھ بھی نہیں، سچ سامنے آ کر رہے گا، جھوٹ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ “سکھر اور رانی پور کے مقدمات نمٹ چکے ہیں، ان شاءاللہ یہ کیس بھی جلد ختم ہو جائے گا کیونکہ یہ جھوٹے مقدمات ہیں، جو قائم نہیں رہ سکتے۔غلام مرتضیٰ جتوئی نے مزید کہا کہ مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات سے واضح ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اختلافات موجود ہیں، تاہم اتحادیوں کے درمیان اختلافات ہو بھی جاتے ہیں۔ “یہ دونوں اتحادی ہیں، آپس میں سمجھوتہ کرلیں گے، کیونکہ اگر یہ اکٹھے نہ رہے تو حکومت نہیں چل سکے گی۔آغا سراج درانی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ ہمارے پرانے دوست ہیں اور ان سے خاندانی تعلقات ہیں، ان کی وفات پر بہت افسوس ہوا ہے۔افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا کہ افغان عوام ہمارے مسلمان بھائی ہیں، پاکستان نے ہمیشہ ان کی میزبانی کی اور ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ لیکن اب جبکہ افغانستان میں حالات بہتر ہو چکے ہیں، تو افغان پناہ گزینوں کو واپس اپنے ملک جانا چاہیے۔ “پاکستان نے اپنی طرف سے پوری مہمان نوازی کی، اب ان کا واپس جانا ہی بہتر ہے۔آخر میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا صاف اور شفاف انتخابات میں ہے۔

رپورٹ نادر مائری


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے