جائیداد کے تنازع پر باپ کے ہاتھوں بیٹا قتل، لاڑکانہ پولیس کا مقتول کے ورثاء کی درخواست پر کارروائی سے انکار

شیئر کریں

لاڑکانہ : لاڑکانہ شہر کے حیدری تھانے کی حدود چھوٹی مچھلی مارکیٹ مولا آباد محلے میں جائیداد کے تنازع پر گزشتہ رات مبینہ طور پر والد کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان گلزار علی جتوئی کے ورثاء نے انصاف کے حصول کے لیے مقتول کی لاش ایمبولینس میں رکھ کر پاک کتاب اٹھائے لاڑکانہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس موقع پر تعلقہ باقرانی کے گاؤں دولت خان جتوئی کی رہائشی مقتول کی بیوہ پارس جتوئی اپنی والدہ فریده، والد عاشق علی جتوئی، بھائی شاہنواز اور آٹھ ماہ کے معصوم بیٹے کے ساتھ روتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل میری شادی اپنے سگے پھوپھا زاد گلزار علی جتوئی سے ہوئی تھی، جس سے میرا آٹھ ماہ کا بیٹا سمیر ہے اور میں اس وقت چار ماہ کی حاملہ ہوں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جائیداد کے معاملے پر سسر منظور جتوئی نے اپنے بھائی گلشن، حیدر، امداد، شہزادو، بیٹے یاسین اور سوتیلے بیٹوں ارشاد، انصاف، جاوید، بھتیجی علی جتوئی سمیت دیگر افراد کے ہمراہ گزشتہ رات میرے شوہر گلزار علی جتوئی پر فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ ملزمان مقتول کی موٹرسائیکل، ایک لاکھ روپے نقدی، موبائل فون اور ہمارے شناختی کارڈ لوٹ کر فرار ہو گئے۔ پارس جتوئی نے مزید الزام لگایا کہ حیدری تھانے کے ایس ایچ او اشفاق شر نے سسر منظور جتوئی سے پانچ لاکھ روپے رشوت لے کر قتل کا مقدمہ درج کرنے اور گرفتاریاں کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ واقعہ کو پندرہ گھنٹے گزرنے کے باوجود نہ تو مقدمہ درج کیا گیا ہے اور نہ ہی ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سسر کے نام پر گاؤں میں آٹھ جریب زرعی زمین، لاڑکانہ شہر کے گجھن پور محلے میں ایک مکان اور ایک کار موجود ہیں، جن پر سسر اور اس کے بیٹوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ مقتول کئی سالوں سے اپنے حصے کا مطالبہ کر رہا تھا، جس پر سسر نے چھ ماہ قبل منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کرا کر پولیس کے ذریعے گرفتار کرایا تھا، تاہم بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہو گیا۔بیوہ پارس جتوئی نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی لاڑکانہ سے اپیل کی کہ واقعے کا نوٹس لے کر سسر، اس کے بیٹوں اور دیگر ساتھیوں کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور مقتول کے خون کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ دوسری جانب الزام کی زد میں آئے مقتول نوجوان کے والدہ گلشاد خاتون جتوئی بھی اپنی بیٹیوں یاسمین، سرتاج خاتون، ثمینہ اور بیٹے یاسین جتوئی کے ہمراہ پریس کلب پہنچ کر احتجاج کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے گلزار جتوئی کو ان کے شوہر منظور جتوئی نے قتل کر کے فرار اختیار کیا ہے جبکہ واقعے کے بعد نہ تو مقتول کی لاش ان کے حوالے کی جا رہی ہے اور نہ ہی مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بھائی عاشق جتوئی اپنے دیگر رشتہ داروں معشوق، حسین، صدام، رابیل جتوئی کے ساتھ مل کر ان کی زمینوں اور جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس سے ان کی جان و مال کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزمان کو گرفتار کر کے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

(رپورٹ نادر مائری)


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے