سکھر: ڈسٹرکٹ روڈز اور بلڈنگز آفس میں کرپشن اسکینڈل بے نقاب، ٹینڈر کلرک قربان بھٹو کے خلاف سنگین الزامات

شیئر کریں

سکھر (بیورورپورٹ) ڈسٹرکٹ روڈز اور ڈسٹرکٹ بلڈنگز کے دفتر میں تعینات ٹینڈر کلرک قربان بھٹو کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق قربان بھٹو گزشتہ تین سال سے اسی عہدے پر براجمان ہے اور اس نے دفتر کو اپنی ذاتی جاگیر بنا رکھا ہے۔عوامی حلقوں اور ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ ٹینڈرز میں شفافیت کے دعوے صرف دکھاوا ہیں، حقیقت میں سب کچھ پہلے ہی طے شدہ ہوتا ہے۔ مخصوص ٹھیکیداروں کو نوازنے کے لیے ٹینڈرز کا عمل محض ایک رسمی کارروائی ہے۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ یہاں "ٹھیکا لو اور رشوت دو” کا فارمولہ رائج ہے، کمیشن اور کرپشن کے بغیر کوئی کام آگے نہیں بڑھتا۔ذرائع کے مطابق جو ٹھیکیدار قربان بھٹو کے قریب ہیں، ان کے کاغذات فوری طور پر منظور کر لیے جاتے ہیں جبکہ دیگر کے کاغذات "غائب” کر دیے جاتے ہیں۔ مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ قربان بھٹو کے تعلقات "مضبوط ہاتھوں” تک ہیں، جس کے باعث وہ گزشتہ تین سال سے اپنی کرسی بچائے ہوئے ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر محکمے کے اندر افسران اس کھیل کا حصہ نہ ہوتے تو ایک کلرک کو اتنی جرات کیسے ملتی۔اطلاعات کے مطابق ٹینڈرز میں ہونے والی کرپشن کے باعث عوامی ترقی کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ عوام کے پیسے سے تعمیر ہونے والی سڑکیں چند ہی ماہ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں جبکہ سرکاری عمارتوں میں ناقص مٹیریل کے استعمال سے وہ چند سال میں ہی کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر معیاری تعمیراتی سامان استعمال کیا جائے تو وہ عمارتیں برسوں قائم رہ سکتی ہیں، جیسا کہ برصغیر میں برطانوی دور کی تعمیرات آج بھی مضبوطی کی علامت ہیں۔شہریوں اور سماجی رہنماؤں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندے اور متعلقہ افسران سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ عوامی نمائندوں اور سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور اینٹی کرپشن حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر قربان بھٹو اور اس کے سرپرستوں کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو "قربان بھٹو کرپشن مافیا” کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔٫

رپورٹ رضوان لودھی


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے