سربراہ نیشنل پیپلزپارٹی غلام مرتضیٰ جتوئی لاڑکانہ عدالت میں پیش، تحقیقاتی آفیسر غیر حاضر

شیئر کریں

لاڑکانہ : جی ڈی اے کے مرکزی رہنما اور نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مرتضیٰ جتوئی اپنے وکلاء کے ہمراہ لاڑکانہ کی عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈوکری اور باڈہ تھانوں میں درج مقدمات کی سماعت کے دوران پولیس اہلکار بیانات ریکارڈ کرانے نہ آئے،

جس پر عدالت نے کارروائی یکم اکتوبر تک ملتوی کردی۔عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا کہ نیشنل پیپلز پارٹی پہلے ہی جی ڈی اے اتحاد کا حصہ ہے، جونیئر ذوالفقار بھٹو جب جماعت بنائے گا تو سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ پر نازل مشکلات سے نجات کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ میں مولانا راشد محمود سومرو کا شکر گزار ہوں، تاہم ہم نہ دائیں بازو کی سیاست کرتے ہیں نہ بائیں بازو کی، بلکہ ہمیشہ اعتدال کی سیاست کو ترجیح دی ہے۔ سندھ میں جے یو آئی کا اپنا نظریہ ہے اور ہمارا اپنا، لیکن دونوں جماعتیں اپنے اپنے کردار کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔غلام مرتضیٰ جتوئی نے الزام لگایا کہ اگر 2018 اور 2024 میں شفاف انتخابات ہوتے تو پیپلز پارٹی سندھ میں 30 فیصد نشستیں بھی حاصل نہ کرپاتی۔

 

(بیورورپورٹ)


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے