بھارت میں ناروا سلوک، عالمی مقابلہ حسن کی امیدوار دستبردار

شیئر کریں

نئی دہلی: عالمی مقابلہ حسن کی امیدوار مس انگلینڈ ملیا میگی نے بھارت میں خواتین کی تذلیل اور نامناسب سلوک پر احتجاجاً دستبردار ہوگئیں۔ دنیا بھر میں بھارت کے خواتین کے تحفظ، عزت اور آزادی کے جھوٹے دعوے بےنقاب ہوگئے۔ 24 سالہ ملیا نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان میں منعقدہ مقابلے کے دوران ان کے ساتھ غیر اخلاقی، غیر انسانی اور تضحیک آمیز رویا روا رکھا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 مئی کو بھارتی شہر حیدرآباد میں ایک پبلسٹی ایونٹ کے دوران ملیا میگی نے انکشاف کیا کہ ہمیں ایسے پیش کیا گیا جیسے ہم کوئی تماشہ دکھانے والے بندر ہوں، تمام شرکاء کو دن بھر بال گاؤنز پہننے پر مجبور کیا گیا، یہاں تک کہ ناشتہ کرتے وقت بھی۔ ملیا کے مطابق انہیں اور دیگر شرکاء کو کاروباری افراد کے ساتھ بیٹھنے کو کہا گیا، جنہوں نے شو میں سرمایہ کاری کی تھی۔
انہوں نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ ہمیں ان کاروباری افراد کے ساتھ شام بھر بیٹھنے کو کہا گیا یہ ناقابلِ یقین تھا، مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے نمائشی کھلونا بنا کر پیش کیا جا رہا ہو، میں یہاں کسی کی تفریح کا سامان بننے نہیں آئی تھی۔
جب میں اپنے سماجی روابط اور انسانی ہمدردی کے کاموں پر بات کرنا چاہتی تھی تو وہاں بیٹھے مردوں کو کوئی دلچسپی نہیں تھی اور صرف بے تُکی چھوٹی باتیں ہو رہی تھیں۔ ملیا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ منتظمین نے مجھے بورنگ کہا اور ایک خاتون نے میرے چہرے کے قریب تالیاں بجا کر مجھے توجہ دلانے کی کوشش کی جو انتہائی توہین آمیز حرکت تھی، ایسا محسوس ہوا جیسے ہم بالغ خواتین نہیں بلکہ اسکول کے بچے ہوں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے