اس وقت بلوچستان کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے۔ لوگوں کو اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر آپ بلوچستان کے کسی بھی عام شہری یا ٹرانسپورٹر سے بات کریں تو وہ یہی شکوہ کرے گا کہ کاروبار تباہ ہو چکا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں روز بروز کاروباری مواقع اور تاجروں کے لیے سہولیات پیدا کی جا رہی ہیں، لیکن ہمارے ہاں کاروباری طبقے کا روزگار مسلسل زوال پذیر ہے۔ آج نہ صرف سرحدی علاقوں کے لوگ مشکلات کا شکار ہیں بلکہ پورے بلوچستان کے تاجر کاروبار کی تباہی کا رونا رو رہے ہیں۔ نوجوان پہلے ہی بے روزگار تھے، اور جو تھوڑا بہت کاروبار باقی تھا وہ بھی اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔
بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ کاروبار کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ نہ صرف اندرون بلوچستان بلکہ دیگر صوبوں سے بھی لوگ گرمیوں میں کوئٹہ کا رخ کرتے تھے۔ اس وقت ہوٹلوں میں کمرے بک کروانا مشکل ہو جاتا تھا، اور یہ لوگ اپنی ضروریات کی خریداری بھی کوئٹہ سے کرتے تھے۔ لیکن اب یہ سب نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ اسی طرح اندرونِ صوبہ سے لوگ سامان خریدنے کے لیے کوئٹہ آتے تھے، مگر سڑکوں کی خراب اور غیر محفوظ صورتحال کے باعث اب ہر شخص خوف محسوس کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حالات اس نہج تک کیسے پہنچے اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ عوام اگر حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ حکومت انہیں پرامن زندگی فراہم کرے۔ عام لوگ اور تاجر جب کسی سیاسی رہنما کی حمایت کرتے ہیں تو ان کی توقع ہوتی ہے کہ ان کا علاقہ ترقی کرے اور کاروبار فروغ پائے، لیکن آج صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کبھی حکومت سڑکیں بند کرتی ہے تو عوام پریشان ہوتے ہیں، اور جب سیاسی جماعتیں سڑکیں بند کرتی ہیں تو حکومت انہیں کھولنے کا حکم دیتی ہے۔ اس صورتِ حال نے عوام کو الجھن میں ڈال دیا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام کے خیرخواہ کوئی نہیں رہے۔
ٹرانسپورٹرز کی حالت بھی ابتر ہے۔ آئے روز سڑکوں کی بندش کی وجہ سے ان کا کاروبار تباہ ہو چکا ہے۔ کبھی سیکیورٹی کے نام پر راستے بند کر دیے جاتے ہیں اور کبھی سیاسی کال پر۔ دونوں صورتوں میں نقصان عام مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
بارڈرز کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ گزشتہ تین ماہ سے چاغی سے متصل پاک ایران سرحد مکمل طور پر بند ہے۔ سرحدی علاقوں کے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں، لیکن کسی کو فکر نہیں کہ وہ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ چاغی کے راجے پوائنٹ سے لوگ دونوں ممالک کی اجازت سے تیل لا کر اپنا گزر بسر کرتے تھے، مگر ایران کی جانب سے تین ماہ سے یہ بندش جاری ہے۔ تفتان بارڈر پر بائی روڈ سفر کرنے والے بھی مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ ویزے کے ذریعے امیگریشن تاحال بند ہے۔ صرف فضائی سفر محدود پیمانے پر جاری ہے اور وہ بھی زیادہ تر زائرین کے لیے۔ سوال یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کو اس سے زیادہ معاشی طور پر کچلنے کے لیے اور کون سی کسر باقی رہ گئی ہے؟
مقامی ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے حالات دن بہ دن بگڑتے جا رہے ہیں۔ انٹرنیٹ جب چاہا بند کر دیا جاتا ہے، جس سے ہزاروں لوگوں کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کو مخصوص اوقات میں سفر کی اجازت دی جاتی ہے، جس سے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز دونوں کو روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ آئے روز کی ہڑتالوں سے تاجروں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ سب معاملات سنجیدگی سے سوچنے کے قابل ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان مسائل پر غور کرے، کیونکہ سرحدی عوام کا ذریعہ معاش بارڈر ہے۔ اگر آپ بارڈر اچانک بند کر دیں گے تو وہ لوگ کہاں جائیں گے اور اپنے بچوں کو کیا کھلائیں گے؟ اسی طرح امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث تاجروں کا روزگار بھی تباہ ہو رہا ہے۔ حالات بہتر ہونے کے بجائے بگڑتے جا رہے ہیں۔ لہٰذا حکومت، اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک میز پر بیٹھ کر اس کا حل نکالنا چاہیے، کیونکہ اس وقت دونوں اطراف سے عوام ہی نقصان اٹھا رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے میں خودکش دھماکے نے 16 سے زائد بے گناہ کارکنوں کی جان لے لی اور 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ ان ماں باپ کے دُکھ کا ذمہ دار کون ہے جن کے بیٹے شہید ہو گئے؟ ایسے دھماکے کاروبار پر بھی براہِ راست منفی اثر ڈالتے ہیں۔
تاجروں کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ حکومت شاہراہوں کو محفوظ بنائے اور عوام کی معاشی بدحالی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کاروبار کھولنے دے، ورنہ حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے کہ کاروباری طبقہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو گا، اور پھر انہیں منانا ناممکن ہو گا۔ اس وقت بلوچستان کے مختلف شعبوں کے تاجر شدید مشکلات کا شکار ہیں اور عوام تو پہلے ہی اپنی زندگی کٹھن حالات میں گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑتے جا رہے ہیں۔




