کام کی عادت گداگری کا تدارک – مختار چودھری

شیئر کریں

ہمارے ہاں مانگنا ایک بہت بڑا پیشہ بن چکا ہے۔ سڑکوں پر مانگنے والوں کے ہجوم نظر آتے ہیں، مساجد کے باہر مانگنے والوں کے ڈیرے ہوتے ہیں۔ کسی دکان کے اندر جانے لگیں یا باہر نکلنے لگیں تو گداگر راستہ روک لیتے ہیں، ہاتھ لگاتے یا پکڑتے ہیں۔ کسی بھی جگہ گاڑی روکیں تو کھڑکیوں پر ٹھک ٹھک کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم فون پر بات کر رہے ہوں یا بالمشافہ کسی کے ساتھ گفتگو کر رہے ہوں تو تمام اخلاقی حدیں پار کر کے بیچ میں مخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم ہاتھ کے اشارے سے منع کریں تو پھر بھی باز نہیں آتے، منہ سے بول کر منع کریں تو بھی جان نہیں چھوڑتے۔ اللہ کے واسطے دیتے ہیں اور اپنی بے کسی اور مجبوریوں کے راگ الاپتے ہیں۔

شہروں کے اندر مانگنے والوں کی ٹولیاں ہوتی ہیں۔ پہلے ایک یا دو آتے ہیں، اگر ہم ان کو کچھ دے دیں تو پھر وہ جا کر دوسروں کو بھیج دیتے ہیں۔ یہ لوگ بہت چالاک، ہوشیار اور منہ پھٹ بھی ہوتے ہیں۔ بندوں کو پہچان لیتے ہیں کہ یہ کتنے پیسے دے سکتے ہیں۔ سڑکوں، بازاروں، عوامی جگہوں اور مساجد کے باہر مانگنے والے ہی مسئلہ نہیں، اب گھر گھر دروازوں پر گھنٹی بجا کر مانگنے والے بھی بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ دیہات تک اجنبی لوگ آ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقے کے لوگوں نے بھی یہ وتیرہ بنا لیا ہے کہ منہ اٹھا کر مانگنے آ جاتے ہیں، بالخصوص تارکین وطن کا پیچھا کرتے ہیں۔ ایسے سمجھتے ہیں جیسے تارکین وطن درختوں سے نوٹ توڑ کر لاتے ہیں۔ تارکین وطن پاکستانی بیرونِ ممالک بہت محنت کرتے ہیں اگر وہ متعلقہ ملک کے رہن سہن اور معیار کے مطابق زندگی گزاریں تو وہ صرف اپنے خرچے پورے کر سکتے ہیں اور اگر وہ کچھ بچا کر پاکستان بھیجتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ وہ وہاں اپنا معیارِ زندگی کم کر کے بچاتے ہوں گے۔

راقم اس موضوع پر کافی عرصہ پہلے بھی لکھ چکا ہے اور کئی بار لکھ چکا ہے۔ مشکل مگر یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو عوام کی مشکلات کی پرواہ نہیں ہے۔ خود وہ عام لوگوں میں رہتے ہیں نہ انہیں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کسی کام کا موڈ بن جائے تو کچھ عرصہ مہم چلتی ہے، تشہیر ہوتی ہے، پھر ختم۔ کوئی کام مستقل مزاجی اور تسلسل کے ساتھ کیا جاتا ہے نہ کوئی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ حکمرانوں اور اداروں کی ان کاموں میں دلچسپی زیادہ ہوتی ہے جن میں ان کا اپنا بھی کچھ فائدہ نظر آتا ہو، کئی ادوار میں حکومتوں نے گداگری کے خلاف اقدامات بھی کئے ہیں، مگر مکمل تدارک کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ پاکستان کے اندر بینظیر انکم سپورٹ کی صورت میں اتنا بڑا پروگرام چل رہا ہے جو شاید ہی کسی اور ترقی پذیر ملک میں ہوگا، مگر اس پروگرام کے شروع ہونے سے اب تک غربت اور گداگری میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اعداد و شمار نکال کر دیکھا جا سکتا ہے کہ ہر سال پاکستان میں غربت اور مانگنے والوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک عرصے سے میں نے پیشہ ور مانگنے والوں کو کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہوا ہے، البتہ کسی مزدوری کرنے والے کو دے دیتا ہوں یا ان لوگوں کی مدد کرتا ہوں جن کو جانتا ہوں کہ یہ واقعی مجبور ہیں۔ میری بیوی اکثر مجھے کہتی ہے کہ جو مانگتا ہے، اسے کچھ دے دیا کرو، بالخصوص معذور مانگنے والوں کی ضرور مدد کرنی چاہیے۔ میرا سوال مگر یہ ہے کہ کیا یہ سب لوگ ضرورت پوری کرنے کے لیے مانگتے ہیں یا پیشے کے طور پر؟ اگر ضرورت کی بات ہے تو ایک مزدور کو دن بھر کام کرنے کی مزدوری دو ہزار سے کم ملتی ہے، تو مانگنے والے دو ہزار پورے ہو جانے کے بعد گھر کیوں نہیں چلے جاتے؟

اس مسئلے کا حل کام کرنے کی عادت ڈالنے میں ہے۔ ہمیں گھر کے کام میں مدد کے لیے کوئی خاتون نہیں ملتی، کہیں سے کوئی مزدور نہیں ملتا۔ ہماری زمینیں غیر آباد پڑی ہیں، کوئی آباد کرنے والا نہیں ہے۔ ہماری پبیوں میں ہزاروں مویشیوں کے پالنے کی گنجائش ہے، مگر کوئی رکھنے والا نہیں، کیوں؟ کیونکہ ہم نے اللہ کے نام پر دینے کا رواج عام کر کے لوگوں کو مانگنے پر لگا دیا ہوا ہے۔ آج میں نے کالم پنجاب میں کرپشن کی وجہ سے بند ہونے والے مثالی گاؤں پروگرام اور ستھرا پنجاب پروگرام پر لکھنا تھا۔ لکھنے ہی لگا کہ دو خواتین مانگنے آگئیں، ان کو کچھ دے کر رخصت کیا آدھا کالم لکھا تھا کہ ایک شیر جوان نوجوان آیا ہے کہ میرے پاس کوئی کام نہیں، اس کو سمجھا کر بھیجا کہ کوئی کام شروع کرو تو ہم آپ کی مدد کریں گے، لو، اب تیسرا بھی آ گیا ہے۔

گداگری کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ مستحق افراد کی مدد اور پیشہ ور گداگری میں فرق کیا جائے، حکومت اور نجی شعبہ مل کر ایسا نظام بنائیں کہ معذوروں کی گھر بیٹھے مدد کی جائے مستحقین کو مالی امداد کے ساتھ ہنر اور روزگار فراہم کیا جائے، جبکہ صحت مند افراد کے لیے کام کے مواقع پیدا کیے جائیں اور پیشہ ور گداگروں کو سڑکوں پر کھڑا ہونے پر پابندی لگائی جائے، عام لوگوں کو میڈیا کے ذریعے آگہی دی جائے کہ وہ اس طرح پیشہ ور گداگروں کو پیسے دے کر ان کی حوصلہ افزائی نہ کریں بلکہ اپنی آمدن پر درست ٹیکس دیں اور خیرات کو زکوۃ کی مد میں جمع کروائیں،حکومت، ریاستی اداروں اور معاشرے کو مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جس میں بھیک کے بجائے محنت کی حوصلہ افزائی ہو، ہمیں لوگوں کو مانگنے کے قابل نہیں، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانا ہے، ابھی کل ہی خبر پڑھی ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 21 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے، اس پروگرام پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے، اس پیسے سے لوگوں کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لیے مدد دینی چاہیے۔ ہماری خواتین کو بھی کام کی عادت ڈالنی ہوگی، چھوٹی صنعتوں کے ذریعے خواتین کما سکتی ہیں، اس سلسلے میں سب سے ضروری یہ ہے کہ ملک کے اندر کم از کم تنخواہ میں مہنگائی کے مطابق خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، نجی شعبے میں بھی تنخواہیں بڑھائی جائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نظام میں لایا جائے، حکومت زراعت، لائیوسٹاک، سیاحت اور چھوٹی صنعتوں میں سرمایہ کاری لا کر روزگار میں اضافہ کر سکتی ہے اور یہ کام نجی شعبے کے ساتھ مل کر کیا جانا چاہیے۔

بشکریہ: روزنامہ پاکستان


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے