آج کا پاکستان اور بدلتی ہوئی دنیا – محمد اکرم چوہدری

شیئر کریں

آج پاکستان اور دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں تبدیلی کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہے سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی، جنگ و امن، موسمیاتی تبدیلی اور معاشرتی روئیے،تقریباً ہر شعبہ کسی نہ کسی تبدیلی کی زد میں ہے چند سال پہلے تک جن مسائل کو مستقبل کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، آج وہ ہمارے دروازے پر کھڑے ہیں پاکستان کے عام شہری کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ دنیا کس سمت جارہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان عالمی اور قومی تبدیلیوں کا اس کے گھر، روزگار، بچوں کی تعلیم اور مستقبل پر کیا اثر پڑے گا۔

پاکستان میں عام آدمی کی زندگی کا سب سے نمایاں مسئلہ معاشی دباؤ ہے گھر کا بجٹ بنانا پہلے بھی آسان نہیں تھا، لیکن اب خوراک، بجلی، گیس، تعلیم، علاج، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے اخراجات نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، جبکہ چھوٹے کاروباری افراد کے لیے کاروباری لاگت ، قوتِ خرید اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال اہم مسائل ہیں ایسے ماحول میں معاشی اعدادوشمار سے زیادہ اہم وہ حقیقت ہے جو بازار، دکان، گھر اور باورچی خانے میں محسوس ہوتی ہے۔

معیشت کا تعلق صرف حکومت یا بڑے کاروباری اداروں سے نہیں ہوتا ایک مزدور کی یومیہ اجرت، ایک نوجوان کی پہلی ملازمت، ایک کسان کی فصل ، ایک دکاندار کی فروخت اور ایک خاندان کی ماہانہ بچت بھی معیشت ہی کی تصویر پیش کرتی ہے پاکستان کو دیرپا معاشی بہتری کے لیے ایسی بنیاد درکار ہے جس میں صنعت، زراعت، برآمدات، چھوٹے کاروبار، جدید ٹیکنالوجی اور ہنرمند افرادی قوت ایک دوسرے کا سہارا بنیں وقتی اقدامات کچھ عرصے کے لیے آسانی پیدا کرسکتے ہیں، مگر مستقل ترقی کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہے ہمارے نوجوان صرف ملازمت کے امیدوار نہیں، بلکہ کاروباری افراد، سائنس دان، انجینئر ، ڈاکٹر، استاد، ہنرمند اور تخلیق کار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تعلیم اور عملی زندگی کے تقاضوں کے درمیان فاصلہ بڑھ جائے ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی اگر نوجوان کے پاس مارکیٹ میں درکار مہارت نہ ہو تو تعلیم اپنے بنیادی مقصد کا ایک حصہ کھو دیتی ہے اسی لیے تعلیم کے ساتھ فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارت، زبان، تحقیق، تنقیدی سوچ اور کاروباری صلاحیت کو فروغ دینا ضروری ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت ایک بڑی تبدیلی بن کر سامنے آئی ہے کمپیوٹر اب صرف حساب کتاب یا معلومات محفوظ کرنے کا ذریعہ نہیں رہا مصنوعی ذہانت لکھنے ، ترجمہ کرنے ، تحقیق ، پروگرامنگ ، کاروباری تجزئیے اور کئی دوسرے کاموں میں استعمال ہورہی ہے اس تبدیلی سے بعض روایتی ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوگی، لیکن نئے شعبے اور نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے پاکستان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کے صرف صارف رہیں گے یا اس میں اپنا حصہ بھی پیدا کریں گے اگر نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کی جائیں تو ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے لیے آمدنی اور روزگار کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

دوسری جانب دنیا کا سیاسی ماحول بھی غیر یقینی کا شکار ہے مختلف خطوں میں جنگیں، مسلح تنازعات اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتی ان کے اثرات تیل اور گیس کی قیمتوں، عالمی تجارت، خوراک، نقل و حمل اور سرمایہ کاری تک پہنچتے ہیں آج دنیا اس قدر باہم منسلک ہوچکی ہے کہ ہزاروں کلومیٹر دور ہونے والا واقعہ بھی پاکستان جیسے ملک کے بازار اور معیشت کو متاثر کرسکتا ہے۔

اس عالمی ماحول میں پاکستان کے لیے متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ تعلقات اہم ہیں پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک اہم مقام دیتا ہے اس جغرافیے کو صرف سیاسی نقط نظر سے دیکھنے کے بجائے تجارت، علاقائی رابطوں، توانائی اور معاشی تعاون کے مواقع کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے دنیا میں وہ ممالک زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنے قومی مفادات کے ساتھ اقتصادی امکانات کو بھی سمجھتے اور طویل مدت کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی ہے کبھی غیر معمولی بارشیں، کبھی سیلاب، کبھی شدید گرمی اور کبھی پانی کی قلت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ماحول کا مسئلہ اب محض سائنسی بحث نہیں رہا اس کا براہِ راست تعلق زراعت، خوراک، صحت، شہروں، بجلی اور معیشت سے ہے بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ پانی کا بہتر استعمال، درختوں اور قدرتی ماحول کا تحفظ، شہری منصوبہ بندی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری مزید اہم ہوتی جارہی ہے۔

معاشرتی سطح پر بھی ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی طاقت دی ہے، لیکن اسی کے ساتھ غلط معلومات، افواہوں اور شدید اختلاف کا مسئلہ بھی بڑھا ہے کسی خبر کو پڑھ کر فوراً آگے بھیج دینا آسان ہے، مگر اس کی حقیقت جانچنا زیادہ ضروری ہے اختلافِ رائے کسی بھی معاشرے میں فطری ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا معاشرے کو تقسیم کرتا ہے ہمیں ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں لوگ مختلف خیالات رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کی بات سن سکیں۔

ملک کی بہتری کا سارا بوجھ صرف حکومتوں پر ڈال دینا بھی کافی نہیں حکومت اور اداروں کی ذمہ داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن شہریوں کی ذمہ داریاں بھی موجود ہیں قانون کی پابندی، دیانت داری، ٹیکس اور شہری ذمہ داریوں کی ادائیگی، صفائی، تعلیم، دوسروں کے حقوق کا احترام اور اپنے کام میں معیار پیدا کرنا بظاہر چھوٹے اقدامات ہیں، مگر یہی اقدامات اجتماعی طور پر کسی قوم کی پہچان بن جاتے ہیں۔

پاکستان کے مسائل یقیناً بڑے ہیں، لیکن امکانات بھی کم نہیں۔ زرخیز زمین، نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، سمندر تک رسائی، بیرونِ ملک پاکستانیوں کا تجربہ، کاروباری صلاحیت اور تیزی سے بڑھتی ڈیجیٹل آگاہی ایسی قوتیں ہیں جنہیں درست سمت دی جائے تو ملک کی معاشی اور سماجی تصویر بدل سکتی ہے اس کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ، بہتر حکمرانی ، معیاری تعلیم ، انصاف ، تحقیق اور میرٹ کو اہمیت دینا ہو گی ۔

آج کی دنیا کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ جو قومیں علم، ٹیکنالوجی، نظم و ضبط اور منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، وہ بدلتے حالات میں اپنے لیے نئے راستے پیدا کرتی ہیں پاکستان کے سامنے بھی یہی انتخاب موجود ہے کہ ہم ہر نئے بحران کے بعد صرف وقتی حل تلاش کریں یا اپنی بنیادی کمزوریوں کو دور کرکے مستقبل کی تیاری کریں۔

مایوسی مسائل کا حل نہیں اور محض امید بھی کافی نہیں امید کو عمل، علم اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ پاکستان کا مستقبل کسی ایک فرد، جماعت، حکومت یا ادارے سے وابستہ نہیں یہ کروڑوں شہریوں کے اجتماعی فیصلوں، محنت اور رویوں سے تشکیل پاتا ہے اگر ہم تعلیم کو ترجیح دیں، نوجوانوں کو مواقع فراہم کریں، معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں، اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں اور دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے لیے خود کو تیار کریں تو مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔

آج کا پاکستان مشکلات اور امکانات دونوں کی تصویر ہے، جبکہ آج کی دنیا خطرات اور مواقع دونوں اپنے ساتھ لائی ہے اصل کامیابی اس بات میں ہوگی کہ ہم حالات کا صرف تماشائی بننے کے بجائے انہیں سمجھیں، اپنی کمزوریوں سے سیکھیں اور اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں۔ قوموں کی تقدیر ایک دن میں نہیں بدلتی، لیکن درست سمت میں اٹھایا جانے والا ہر قدم آنے والے کل کی بنیاد ضرور بنتا ہے۔

بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے