بلوچستان: خون کے آنسوؤں میں مسکراتی امید، اتحاد کی قندیل اور ترقی کا سفر – پروفیسر ڈاکٹر محمد جلال عارف

شیئر کریں

بلوچستان محض نقشے پر کھنچی ایک لکیر یا انتظامی اکائی نہیں، یہ ہماری قومی شناخت کا وہ سنگِ بنیاد ہے جس پر پاکستان کی جغرافیائی سلامتی، معدنی دولت، ساحلی طاقت اور کل کی معاشی خوشحالی کی عمارت استوار ہے۔ یہ دھرتی ان بہادر، خوددار اور محبِ وطن بلوچ بیٹوں کی امانت ہے جنہوں نے تاریخ کے ہر نازک موڑ پر پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری کا لہو سے ثبوت دیا۔ مگر افسوس کہ برسوں سے کچھ دہشت گرد عناصر، بیرونی آشیر  باد اور مذموم عزائم کے زیرِ سایہ، اس زرخیز اور پرامن سرزمین کو بارود اور خون میں نہلانے کے درپے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر نے پوری قوم کے دل کو زخمی کر دیا ہے۔ جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملہ ہو، بے گناہ مسافروں کو شناخت کی بنیاد پر چن چن کر شہید کیا جانا ہو، یا معزز جج صاحبان، سرکاری اہلکاروں اور سیکوریٹی فورسز کے جوانوں کو نشانہ بنایا جانا ہو۔ یہ سب وہ المناک باب ہیں جن کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ قومیت اور نہ انسانیت۔ ان کا واحد مقصد خوف کے سائے پھیلانا، معاشرے میں انتشار بونا اور قومی وحدت کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ ان سفاک وارداتوں میں جانیں گنوانے والا ہر پاکستانی محض ایک عدد نہیں بلکہ کسی ماں کی آنکھ کا تارا، کسی بہن کا سائباں، کسی بچے کے سر پر شفقت کا ہاتھ تھا۔ ان کے پسماندگان کا کرب پوری قوم کا اجتماعی درد ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بلوچستان پولیس کے جانباز روزانہ اپنے لہو کا نذرانہ پیش کر کے اس دھرتی کے امن کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان کی قربانیاں محض اعداد و شمار نہیں، ہماری قومی تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جسے آنے والی نسلیں فخر سے یاد رکھیں گی۔

بلوچستان کا عام شہری امن چاہتا ہے، تعلیم چاہتا ہے، اپنے بچوں کے لیے روشن مستقبل اور خوشحالی چاہتا ہے۔ چند دہشت گرد گروہوں کے سیاہ کرتوتوں کو پورے صوبے یا پوری بلوچ قوم سے منسوب کرنا نہ صرف کھلی ناانصافی ہے بلکہ لاشعوری طور پر دشمن کے مذموم بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف بھی ہے۔ ہمیں یہ فرق ہمیشہ ذہن نشین رکھنا ہو گا۔

ریاستِ پاکستان نے بلوچستان کی ترقی اور اس کے نوجوانوں کے تابناک مستقبل کے لیے متعدد ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ ملک بھر کی سرکاری جامعات میں بلوچستان کے طلبہ کے لیے خصوصی نشستیں اور رعایتیں مختص ہیں۔ وفاقی و صوبائی سطح پر بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے مواقع، تربیتی و ہنر مندی کے پروگرام اور خصوصی وظائف بھی بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے عزم کی گواہی دیتے ہیں۔بلوچستان کی معاشی اہمیت میں گوادر کی بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ نئی شاہراہیں، موٹرویز، ریلوے روابط، توانائی کے منصوبے اور صنعتی زونز بلوچستان کو قومی معیشت کے ساتھ مضبوطی سے جوڑ رہے ہیں۔ یہی وہ ترقی کا خواب ہے جسے دہشت گرد عناصر سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان آج عالمی سطح پر اپنی متوازن، باوقار اور دانش مندانہ خارجہ پالیسی کے باعث ایک مثبت اور قابلِ احترام شناخت حاصل کر رہا ہے۔ خطے اور دنیا کے حالات اگرچہ آسان نہیں، مگر پاکستان نے مشکل ترین لمحات میں بھی ذمہ دارانہ حکمتِ عملی اور قومی استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھی ہیں۔ ایسے نازک وقت میں داخلی اتحاد اور یگانگت پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو چکی ہے۔

بلوچستان کے نوجوان اس دھرتی کا سب سے قیمتی اور انمول سرمایہ ہیں۔ ہمیں انہیں شک و شبہے کی عینک سے نہیں بلکہ اعتماد، محبت اور امید کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا۔ معیاری تعلیم، جدید ہنر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کاروباری مواقع، نوجوانوں کے لیے آسان قرضے، اسٹارٹ اپ کلچر، چھوٹی و بڑی صنعتوں کا قیام، زرعی و معدنی شعبوں میں سرمایہ کاری اور مقامی سطح پر روزگار کے وسیع مواقع، یہی وہ راستے ہیں جو نوجوانوں کو دہشت گردی کے فریب اور بیانیے سے دور رکھ سکتے ہیں اور انہیں تعمیر کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

بلوچستان کے قبائلی و سیاسی قائدین، بااثر شخصیات، اہلِ دانش، اساتذہ، علمائے کرام اور سول سوسائٹی پر بھی ایک تاریخی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں آگے بڑھ کر برداشت، رواداری، بھائی چارے، قومی یکجہتی اور آئین و قانون کی بالادستی کا پیغام عام کرنا ہوگا۔ محبِ وطن آوازوں کو مزید تقویت دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کے سامنے نفرت کا اندھیرا نہیں بلکہ امید، تعمیر اور ترقی کا اجالا ہو۔ جس دن ہر نوجوان کو باعزت روزگار، معیاری تعلیم اور ترقی کے مساوی مواقع میسر آئیں گے، اسی دن دہشت گردی کے لیے زمین خود بخود تنگ ہوتی چلی جائے گی اور نفرت کے بیج بنجر زمین پر گر کر ناکام ہو جائیں گے۔آئیے عہد کریں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ایک ہی آواز اور ایک ہی صف بنیں گے، بلوچستان کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔

بشکریہ: روزنامہ پاکستان

 


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے