مجھے ہمیشہ ایک سوال بے چین کرتا ہے ایسا سوال جس کا جواب شاید ہم سب جانتے ہیں، مگر ماننے سے گھبراتے ہیں آخر وہ کون سا جادو ہے جو ایک پاکستانی کے اندر اس وقت پیدا ہو جاتا ہے جب اس کا جہاز کسی دوسرے ملک کے ہوائی اڈے پر اترتا ہے؟ چند گھنٹے پہلے تک وہی شخص اپنے وطن میں ٹریفک سگنل کو محض ایک مشغلہ سمجھتا تھا ، قطار توڑنے کو اپنی چالاکی، سڑک پر کچرا پھینکنے کو معمول اور قانون کی خلاف ورزی کو اپنی ذہانت کا ثبوت خیال کرتا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ دبئی، دوحہ، ریاض، لندن، ٹورنٹو یا کوالالمپور پہنچتا ہے ، وہی شخص بدل جاتا ہے وہ خاموشی سے قطار میں کھڑا رہتا ہے، ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کرتا ہے، اپنے اردگرد صفائی کا خیال رکھتا ہے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور سرکاری املاک کو اپنی امانت سمجھتا ہے۔
تب دل میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے آخر اپنے ہی وطن میں ہم ایسے کیوں نہیں ہوتے؟ یہ سوال کسی حکومت سے نہیں، کسی سیاسی جماعت سے نہیں ، کسی ادارے سے نہیں، بلکہ مجھ سے، آپ سے اور ہم سب سے ہے ہم اکثر اپنی تمام ناکامیوں کا الزام حکمرانوں، نظام، اداروں اور حالات پر ڈال دیتے ہیں یقیناً ان سب کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کوئی بھی قوم صرف حکمرانوں کے کردار سے نہیں، بلکہ اپنے عوام کے کردار سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر قوم زندہ ہو ، شعور رکھتی ہو اور اپنی ذمہ داری پہچانتی ہو تو کمزور نظام بھی مضبوط ہو جاتا ہے، لیکن اگر قوم ہی اپنی ذمہ داری سے غافل ہو جائے تو بہترین آئین اور بہترین قوانین بھی کتابوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔
ہمیں خود سے ایک سادہ سا سوال پوچھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم بیرونِ ملک قانون کا احترام کر سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں؟ اگر ہم وہاں جرمانے کے خوف سے رفتار کم کر سکتے ہیں تو یہاں اپنے بچوں، اپنے بزرگوں اور اپنے ہم وطنوں کی جان کے احترام میں رفتار کیوں کم نہیں کرتے ؟ اگر وہاں ہم سڑک پر کچرا نہیں پھینکتے تو یہاں اپنی گلی ، اپنے محلے اور اپنے شہر کو گندا کرنے میں ہمیں شرم کیوں محسوس نہیں ہوتی؟ اس کا جواب تلخ ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم نے حب الوطنی کو جذبات تک محدود کر دیا ہے، کردار تک نہیں پہنچنے دیا۔
وطن سے محبت صرف قومی ترانہ گانے، سبز ہلالی پرچم لہرانے یا یومِ آزادی پر جشن منانے کا نام نہیں۔ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ جب کوئی دیکھ نہ رہا ہو تب بھی انسان قانون کی پابندی کرے ایمانداری سے اپنا کام کرے، کسی کا حق نہ مارے، سرکاری چیز کو اپنی چیز سمجھے، یہی وہ عمل ہے جو قوموں کی تقدیر بدلتا ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کوئی قوم راتوں رات ترقی یافتہ نہیں بنی جاپان دوسری جنگِ عظیم میں تباہ ہو گیا تھا، مگر اس نے نظم و ضبط، محنت اور دیانت داری کو اپنا سرمایہ بنایا۔ سنگاپور ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا، مگر اس نے قانون کی بالادستی اور شہری ذمہ داری کو اپنی طاقت بنایا۔ متحدہ عرب امارات کے پاس دولت ضرور تھی، لیکن اگر وہاں قانون کی عملداری نہ ہوتی تو آج وہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار نہ ہوتا۔
ان ممالک میں رہنے والے پاکستانی خود اس حقیقت کے گواہ ہیں۔ وہ وہاں قانون کی پابندی کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں، صفائی کا خیال رکھتے ہیں، ایمانداری سے کام کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ پاکستانی قوم میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ کمی صرف اس بات کی ہے کہ ہم نے اپنے وطن میں انہی اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنایا۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان وسائل سے محروم ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زرخیز زمین دی، چار موسم دئیے، دریا دیے، پہاڑ دئیے، سمندر دیا، معدنی خزانے دئیے، محنتی نوجوان دئیے اور ایک ایسی جغرافیائی حیثیت دی جس کی مثال کم ملتی ہے اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اجتماعی شعور اور عملی کردار کی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیاں بہت جلد دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنی خامیوں پر نظر ڈالنے سے کتراتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا شخص قانون پر عمل کرے ، مگر اپنے لیے رعایت چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا ایماندار ہو، مگر اپنی بے ایمانی کو مجبوری کا نام دے دیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا وقت کا پابند ہو، مگر اپنی تاخیر کو معمول سمجھتے ہیں۔
قومیں اس وقت زوال کا شکار نہیں ہوتیں جب ان کے پاس دولت کم ہو، بلکہ اس وقت زوال آتا ہے جب کردار کمزور ہو جائے اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی، اگر ہم صرف اسی پر عمل کر لیں تو شاید ہمیں کسی اور نصاب کی ضرورت نہ پڑے۔ رسولِ اکرم ؐ نے فرمایا کہ بہترین مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ قرآن ہمیں عدل، دیانت، امانت، صفائی، سچائی اور وعدے کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ افسوس کہ ہم عبادات میں تو آگے ہیں، مگر معاملات میں پیچھے رہ گئے ہیں۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مسجد میں پڑھی جانے والی نماز اور بازار میں کی جانے والی دیانت، دونوں اسلام کا حصہ ہیں۔ روزہ رکھنا بھی عبادت ہے اور ملاوٹ نہ کرنا بھی عبادت ہے۔ حج کرنا بھی عظیم عمل ہے اور کسی یتیم کا حق نہ مارنا بھی عظیم عمل ہے اگر ہم نے اپنے مذہب کی ان تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا تو پاکستان کو بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
ہمیں اپنے بچوں کی تربیت پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہم انہیں بہترین لباس، مہنگے سکول اور جدید موبائل تو دے دیتے ہیں، مگر قطار میں کھڑے ہونا ، سچ بولنا ، صفائی کرنا ، بڑوں کا احترام کرنا اور قانون کی پابندی کرنا نہیں سکھاتے۔ پھر جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو وہی روئیے معاشرے میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا ، قوم بناتا ہے، والدین صرف بچوں کی پرورش نہیں کرتے بلکہ آنے والی نسلوں کا کردار تشکیل دیتے ہیں، میڈیا صرف خبریں نہیں دیتا بلکہ معاشرے کی سوچ بھی بناتا ہے۔ تاجر صرف سامان نہیں بیچتا بلکہ اعتماد بھی فروخت کرتا ہے۔ سرکاری ملازم صرف تنخواہ نہیں لیتا بلکہ قوم کی خدمت کا عہد بھی کرتا ہے اس لیے پاکستان کی تعمیر صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔
ہمیں اپنے شہداء کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے اس سرزمین کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ اگر سرحد پر کھڑا سپاہی اپنی جان دے سکتا ہے تو کیا ہم ایک سگنل پر رک نہیں سکتے؟ اگر ایک ماں اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کر سکتی ہے تو کیا ہم اپنے شہر کو صاف نہیں رکھ سکتے؟ اگر ایک کسان دھوپ میں کھڑے ہو کر ہماری غذا اگا سکتا ہے تو کیا ہم اپنے فرائض ایمانداری سے انجام نہیں دے سکتے؟ اصل حب الوطنی نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان کے نوجوان آج دنیا کے ہر کونے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ہمارے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، اساتذہ، کاروباری افراد اور مزدور اپنی محنت سے پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی کسی بھی قوم سے کم نہیں ۔ ہمیں صرف اپنے ملک میں بھی وہی معیار اپنانا ہو گا جو ہم بیرونِ ملک اختیار کرتے ہیں۔
آج اگر ہر پاکستانی صرف پانچ عہد کر لے تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
میں قانون نہیں توڑوں گا
میں کسی کا حق نہیں ماروں گا
میں اپنے شہر کو صاف رکھوں گا
میں ایمانداری سے اپنا کام کروں گا
میں اپنے وطن کو اپنا گھر سمجھوں گا
یہ پانچ جملے شاید بہت چھوٹے ہوں، مگر انہی سے ایک عظیم قوم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی ہمیشہ اوپر سے نہیں آتی، نیچے سے اٹھتی ہے۔ ایک ایماندار دکاندار، ایک ذمہ دار استاد، ایک باکردار طالب علم، ایک فرض شناس پولیس اہلکار، ایک انصاف پسند جج، ایک دیانت دار سرکاری ملازم اور ایک قانون کا احترام کرنے والا عام شہری… یہی مل کر پاکستان کی اصل تصویر بناتے ہیں۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کب بدلے گا؟ میں کہتا ہوں، پاکستان اسی دن بدلنا شروع ہو جائے گا جس دن ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں گے کہ قطار توڑنا ذہانت نہیں، بدتہذیبی ہے۔ رشوت لینا کامیابی نہیں، رسوائی ہے۔ جھوٹ وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر قوموں کو کمزور کر دیتا ہے۔ وقت کی پابندی دوسروں پر احسان نہیں بلکہ اپنا فرض ہے۔
ہمیں اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کی امانت ہے۔ اس کی مٹی میں قربانیوں کی خوشبو ہے ۔ اس کے سبز پرچم میں لاکھوں دعاؤں کی روشنی ہے۔ اس کی فضاؤں میں ہمارے بزرگوں کے خواب بستے ہیں۔ اس کے مستقبل کا فیصلہ پارلیمنٹ کی عمارتوں سے پہلے ہمارے گھروں، ہمارے سکولوں، ہماری دکانوں، ہماری سڑکوں اور ہمارے رویوں میں ہوتا ہے۔
آئیے آج ہم ایک عہد کریں:
ہم وہی پاکستانی بنیں گے جو ہم بیرونِ ملک بنتے ہیں، ہم قانون کی پابندی خوف سے نہیں بلکہ شعور سے کریں گے، ہم صفائی اس لیے رکھیں گے کہ یہ ہمارا وطن ہے، ہم ایمانداری اس لیے اختیار کریں گے کہ یہی ہماری پہچان ہے، ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب انسان نہیں بلکہ اچھا انسان بنائیں گے، ہم دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کریں گے اور جب ہر پاکستانی اپنے حصے کا چراغ روشن کرے گا تو پورا پاکستان جگمگا اٹھے گا۔
آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو کسی معجزے کی ضرورت نہیں۔ نہ کسی نئے آسمان کی، نہ کسی نئی زمین کی، نہ کسی نئی قوم کی، پاکستان کو صرف اس پاکستانی کی ضرورت ہے جو بیرونِ ملک والا کردار اپنے وطن میں بھی اپنا لے۔ جس دن ہم نے یہ فیصلہ کر لیا، اس دن ترقی ہماری منزل نہیں، ہمارا مقدر ہوگی۔
آئیے شکایتوں کی سیاست چھوڑ کر کردار کی سیاست شروع کریں ۔ الزام تراشی کے بجائے اپنی ذمہ داری قبول کریں۔ نفرت کے بجائے محبت، بے حسی کے بجائے احساس اور دعوئوں کے بجائے عمل کو اپنا شعار بنائیں۔ کیونکہ پاکستان واقعی ایک عظیم قوم ہے… اسے عظیم تر بنانے کے لیے صرف اور صرف عمل کرنے کا آغاز کرنے کی دیر ہے۔
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت




