لاڑکانہ: لاڑکانہ میں گزشتہ 16 دسمبر کو شہر کی لہر کالونی میں مبینہ گیس سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے ورثاء نے جے آئی ٹی رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے اور سرکاری سطح پر معاوضہ نہ ملنے کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
جہاں انہوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر نعرے بازی بھی کی، اس موقع پر متاثرین عمران علی رند، سکندر علی مغیری و دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
16 دسمبر کو لہر کالونی کے رہائشی ریلوے پولیس کے ریٹائرڈ ڈی ایس پی مختیار جتوئی کے گھر میں اچانک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں تین خاندانوں کے چھ افراد جاں بحق جبکہ پندرہ سے زائد بچے، خواتین اور مرد شدید زخمی ہوئے اور پانچ گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے،
انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں نے تاحال کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی واقعے کی حقیقت سامنے لائی گئی ہے کہ دھماکہ کس چیز کا تھا،
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشیں کراچی اور لاڑکانہ کے اسپتالوں سے ایمبولینس کے ذریعے منتقل کر کے تدفین کی اور زخمیوں کا علاج کرایا،
ابتدا میں جے آئی ٹی بنانے اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، متاثرین اس وقت کرائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں اور زخمیوں کے مزید علاج کے لیے وسائل بھی نہیں،
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دھماکہ گیس سلنڈر کا نہیں بلکہ کسی بارودی مواد کا تھا جس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی اور تین دن میں رپورٹ دینے کا کہا گیا تھا مگر آج تک رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی،
جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل حقائق چھپائے جا رہے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جے آئی ٹی رپورٹ جاری کر کے جانی و مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے بصورت دیگر 4 اپریل کو سخت احتجاج کیا جائے گا۔

رپورٹ: نادر مائری


