پاکستان میں نیپاہ وائرس کے حوالے سے پھیلنے والی تشویش کے درمیان طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ملک کو اس وائرس سے فی الحال کوئی براہ راست خطرہ لاحق نہیں۔
ماہرینِ متعدی امراض کا کہنا ہے کہ نیپاہ وائرس دنیا بھر میں نہایت محدود سطح پر رپورٹ ہوتا ہے اور پاکستان میں اب تک اس کا کوئی مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق یہ بات آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں منعقد ہونے والی نیپاہ وائرس سے متعلق ایک گول میز کانفرنس میں سامنے آئی، جہاں ایسوسی ایٹ چیف میڈیکل آفیسر اور ماہر امراض متعدی ڈاکٹر فیصل محمود اور سیکشن ہیڈ انفیکشن ڈیزیز ڈاکٹر نوشین ناصر نے تفصیلی بریفنگ دی۔
کانفرنس میں نیپاہ وائرس کی عالمی صورتحال، اس کے پھیلاؤ کے طریقۂ کار اور پاکستان کے لیے ممکنہ خطرات پر جامع گفتگو کی گئی۔
ماہرین نے بتایا کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں نیپاہ وائرس کے صرف 10 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ مشرقی بھارت اور بنگلادیش میں سامنے آنے والے حالیہ کیسز پاکستان کے لیے براہ راست خطرہ نہیں بنتے۔
ڈاکٹر نوشین ناصر کے مطابق نیپاہ وائرس ایک زونوٹک بیماری ہے جو جانوروں سے انسان میں منتقل ہوتی ہے، تاہم انسان سے انسان میں اس کی منتقلی کے امکانات نہایت کم ہیں، جس کی وجہ سے اس کے کیسز محدود رہتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ نیپاہ وائرس کا پہلا کیس 1998 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا، جہاں یہ وائرس خنزیروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ اسی مقام کے نام پر اس وائرس کو نیپاہ کہا گیا۔ دنیا میں اب تک زیادہ تر کیسز بھارت، بنگلادیش اور بعض دیگر ایشیائی ممالک میں سامنے آئے ہیں۔
رواں سال بھارت میں رپورٹ ہونے والے 2 کیسز کو عالمی ادارہ صحت نے سروائیونگ کیسز قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر فیصل محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نیپاہ وائرس کی اسکریننگ کی فوری ضرورت نہیں کیونکہ اگر ملک میں اس وائرس کے کیسز موجود ہوتے تو اب تک رپورٹ ہو چکے ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وائرس کا ٹیسٹ دستیاب نہیں، تاہم کسی مشتبہ صورتحال میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں تشخیص کی سہولت موجود ہے۔
ماہرین نے احتیاطی تدابیر پر زور دیتے ہوئے عوام کو ہاتھوں کی صفائی، پھل اچھی طرح دھو کر استعمال کرنے اور آدھا کٹا پھل نہ کھانے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیپاہ وائرس کی ابتدائی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں، تاہم شدید صورت میں دماغی سوزش اور اعصابی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔




