فاسٹ آئل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی سنجھورو میں ریفائنری منصوبے پر ماحولیاتی عوامی سماعت

شیئر کریں

فاسٹ آئل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی جانب سے سنجھورو میں ریفائنری منصوبے پر ماحولیاتی عوامی سماعت، سی او او رضا الرحمان صدیقی کا کہنا ہے: "فاسٹ آئل جدید مشینری استعمال کر رہی ہے، مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور ترقی کے دروازے کھلیں گے”


سنجھورو (ضلع سانگھڑ): ضلع سانگھڑ کی تحصیل سنجھورو کے علاقے دیہہ دوہفانی، ٹپو لکھا میں فاسٹ آئل پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے مجوزہ کنڈینسیٹ پراسیسنگ فیسلٹی / ریفائنری کے قیام سے متعلق ماحولیاتی اثرات کے جائزے (EIA) کے حوالے سے عوامی سماعت (Public Hearing) منعقد کی گئی۔یہ تقریب سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (Sindh EPA)، حکومتِ سندھ کے تعاون سے 8 اکتوبر 2025 کو سروے نمبر 157، 158، 120 اور 119 دیہہ دوہفانی، تحصیل سنجھورو میں منعقد ہوئی۔ اس میں مختلف محکموں کے افسران، ماہرین ماحولیات، مقامی زمیندار، صحافی اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب میں فاسٹ آئل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) رضا الرحمان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "فاسٹ آئل ملک کی واحد کمپنی ہے جو جدید ترین مشینری استعمال کر رہی ہے۔ ہم اس ریفائنری کے لیے بیرونِ ملک سے جدید مشینری منگوا رہے ہیں اور تمام قانونی و ماحولیاتی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ سنجھورو میں ریفائنری کے قیام سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور ملکی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا۔ فاسٹ کے پیٹرول پمپس پر عوام کو معیاری تیل فراہم کیا جاتا ہے اور ہم یہاں کے علاقوں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ ہم اسکول، ٹریننگ سینٹرز اور تربیتی ادارے قائم کریں گے جہاں مقامی نوجوانوں کو جدید تربیت دے کر ملازمت کے قابل بنایا جائے گا۔”
رضا الرحمان صدیقی نے کہا کہ "ماحولیاتی آلودگی کے پیشِ نظر ہم وہ مشینری نصب کر رہے ہیں جو قدرتی ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچائے۔ ہمارا عزم ہے کہ فاسٹ آئل ریفائنری میں زیادہ سے زیادہ مقامی لوگوں کو روزگار دیا جائے تاکہ علاقے میں ترقی اور خوشحالی آئے۔”ماحولیاتی ماہرین نے کہا کہ منصوبے کے آغاز سے قبل تمام ماحولیاتی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ پانی، زمین اور فضا کو آلودگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
علاقے کے عوام نے اس منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریفائنری کے قیام کے ساتھ مقامی ترقیاتی کاموں کو بھی ترجیح دی جائے۔

 

رپورٹ محمد وقار بھٹی


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے