لاڑکانہ : نواحی گاؤں گل محمد کھوسو کی رہائشی خاتون نے اپنے معصوم بچوں، ضعیف ماں اور ماسی کے ہمراہ شوہر کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
احتجاج کے دوران متاثرہ خاتون راحیلا کھوسو نے میڈیا کو بتایا کہ اس کی شادی پانچ سال قبل گاؤں گل محمد کھوسو کے رہائشی محمد عثمان کھوسو سے ہوئی تھی، جس سے ایک بیٹا فراز اور ایک بیٹی ریشماں ہے۔ خاتون نے الزام لگایا کہ شادی کے بعد شوہر مسلسل اس پر ظلم و زیادتی کرتا رہا اور نہ ہی گھریلو اخراجات فراہم کرتا تھا۔
راحیلا کھوسو کے مطابق دو روز قبل خرچ مانگنے پر شوہر نے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنا کر گھر سے نکال دیا، جس کے بعد وہ اپنی ماسی ارباب خاتون بروہی کے گھر رہائش پذیر ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ شوہر زبردستی اس سے معصوم بچے چھیننے کی کوشش کر رہا ہے اور مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ خاتون نے بتایا کہ اس نے واقعے بابت حیدری تھانے میں رپورٹ درج کرائی ہے، مگر پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ راحیلا کھوسو نے لاڑکانہ کے ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لے کر شوہر کے خلاف قانونی کارروائی کریں، اسے تحفظ فراہم کریں اور انصاف دلائیں۔
(رپورٹ نادر مائری)


