بنگلادیش میں عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری محبوب العالم حنیف کو جولائی 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران کُشتیہ میں چھ افراد کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ اسی مقدمے میں عوامی لیگ کے تین دیگر رہنماؤں کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کے لیے قائم انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل 2 کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو سنایا۔
یہ فیصلہ جولائی 2024 میں عوامی لیگ کی حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے دوران کُشتیا میں 6 افراد کے قتل سے متعلق ایک مقدمے میں سنایا گیا ہے۔
پراسیکیوشن نے 5 اکتوبر کو اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے تمام ملزمان کے لیے کڑی ترین سزا کی استدعا کی تھی۔ واضح رہے کہ اس مقدمے میں سزا پانے والے چاروں رہنما اس وقت مفرور ہیں۔ ٹربیونل نے چاروں مفرور رہنماؤں کی غیر منقولہ جائیداد کا نصف حصہ ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ اس جائیداد کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو ’جولائی فاؤنڈیشن‘ یا کسی اور متعلقہ سرکاری ادارے کے ذریعے جولائی 2024 کی تحریک کے دوران جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں بطور معاوضہ تقسیم کیا جائے۔
سزائے موت پانے والے محبوب العالم حنیف کے علاوہ تاحیات قید کی سزا پانے والوں میں ضلع کشتیا میں عوامی لیگ کے مقامی صدر اور سابق چیئرمین ضلع پریشد صدرالدین خان، ضلعی جنرل سیکرٹری اصغر علی اور سٹی جنرل سیکرٹری عطاء الرحمان عطاء شامل ہیں۔
محبوب العالم حنیف پر پہلا الزام یہ تھا کہ انہوں نے عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری عبید القادر کے اشتعال انگیز بیانات کی توثیق کی تھی اور مظاہرین کو جرائم پیشہ عناصر، فرقہ پرست قرار دے کر ان کے خلاف تشدد کو ہوا دی تھی۔
پراسیکیوشن کے مطابق ان بیانات سے مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی گئی، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں 1400 سے زائد افراد ہلاک اور 25 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
محبوب العالم حنیف پر دوسرا الزام یہ تھا کہ انہوں نے 27 جولائی 2024 کو کشتیا میں ہی پارٹی اجلاس کے دوران دیگر تینوں رہنماؤں (صدرالدین، اصغر اور عطاء الرحمان) کو مظاہرین کی تحریک کو کچلنے کے لیے بھرپور طاقت استعمال کرنے کی ہدایت کی اور مظاہرین پر حملوں میں سہولت کاری بھی کی۔
پراسیکیوشن کے مطابق اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ کی مبینہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ملزمان نے مقامی رہنماؤں اور پولیس کی مدد سے 5 اگست کو کشتیا میں نہتے مظاہرین پر فائرنگ کروائی۔ اس واقعے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور متعدد شدید زخمی ہوئے تھے۔
بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو نومبر 2025 میں ’انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل‘ نے جولائی اور اگست 2024 کے دوران طلبہ کے احتجاج کے دوران ہونے والے قتلِ عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والے پُرامن طلبہ کے مظاہروں کو طاقت کے زور پر کچلنے کے لیے سیکورٹی فورسز کو براہِ راست مہلک ہتھیار استعمال کرنے کا حکم دیا، ان مظاہروں کے دوران کم از کم 1400 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بنگلادیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والا طلبہ کا یہ احتجاج بعد میں شیخ حسینہ کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کی تحریک بن گیا تھا۔ 5 اگست 2024 کو اقتدار سے بے دخلی کے بعد شیخ حسینہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک بھارت فرار ہو گئی تھیں اور تاحال وہیں مقیم ہیں۔




