بریلوی مکتب ِ فکر کے پاس نہ علمی سرمائے کی کمی ہے نہ باصلاحیت افراد کی۔ مساجد آباد ہیں، مدارس قائم ہیں، اور عوام کا دین سے جذباتی تعلق ایسا ہے جس کی مثال کم ملتی ہے۔ اس کے باوجود ایک سوال ہر سنجیدہ دل کو بے چین کرتا ہے: اتنی بڑی تعداد میں دینی اجتماعات ہونے کے بعد بھی عام آدمی قرآن کے فہم، حدیث کی معرفت اور دین کی بنیادی سمجھ میں پیچھے کیوں ہے؟
جواب تلخ مگر سادہ ہے۔ ہمارے ہاں دینی اجتماع تو بہت ہوتے ہیں، مگر ان میں سے بیشتر علم کی مجلس نہیں بن پاتے۔ہمارے معاشرے میں ایک عام منظر یہ ہے کہ سٹیج سجا، روشنیاں جلیں، نعت خوان آئے، چند گھنٹے آوازیں بلند ہوئیں، لنگر تقسیم ہوا، نذرانے دیے گئے، چندہ جمع ہوا اور لوگ گھروں کو لوٹ گئے۔ اگلے دن کوئی پوچھے کہ کل کی محفل سے آپ نے کیا سیکھا، کون سی آیت سمجھی، کون سی حدیث یاد کی، زندگی کا کون سا مسئلہ حل ہوا، تو اکثر کے پاس جواب نہیں ہوتا۔ یہ صورتِ حال کسی کی نیت پر سوال نہیں، ہمارے طریقہ کار پر سوال ہے۔ جب دینی اجتماع کا محور سیکھنا اور سکھانا نہ رہے، بلکہ رونق، شہرت، نذرانہ اور چندہ بن جائے، تو اجتماع کی روح کمزور پڑ جاتی ہے۔ دین کی محفل کا اصل حاصل یہ ہے کہ آدمی وہاں سے پہلے سے زیادہ جاننے والا، زیادہ سمجھنے والا اور زیادہ عمل کرنے والا بن کر اٹھے۔ذرا غور کیجیے کہ وحی کا آغاز کس لفظ سے ہوا۔ پہلا حکم عبادت کی کسی شکل کا نہیں، بلکہ ”اِقْرَاْ” تھا، یعنی پڑھو، جس دین کی ابتدا ہی پڑھنے سے ہو، اس کے ماننے والوں کی پہچان علم کے بغیر کیسے مکمل ہو سکتی ہے؟
قرآن نے بار بار انسان کو سوچنے، سمجھنے اور غور کرنے کی دعوت دی۔ فرمایا: ”کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ” یعنی یہ بابرکت کتاب ہم نے اس لئے اتاری کہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں۔ اور دوسری جگہ تنبیہ کے انداز میں پوچھا: ”اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا” کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں؟
قرآن نے اہلِ علم کا مقام بھی واضح کر دیا: ”یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ” اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجات بلند فرماتا ہے۔ اور رسول اللہ ؐ کو جو دعا سکھائی گئی وہ مال یا منصب کی نہیں، علم میں اضافے کی تھی: ”رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا”۔
رسول اللہ ؐ نے مسلمانوں کے اجتماع کی جو تصویر کھینچی، وہ ہماری رہنمائی کیلئے کافی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ جب کچھ لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں اسے پڑھتے پڑھاتے ہیں، تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس والوں میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔
یہ ہے وہ مجلس جس پر رحمت برستی ہے: تلاوت بھی ہو اور ”تدارس” یعنی مل کر سیکھنا سکھانا بھی۔ اسی طرح نبی کریمؐ نے فرمایا: ”خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ اور فرمایا: ”مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ” اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔
ایک اور حدیث میں علم کے مسافر کو یہ خوش خبری دی گئی کہ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ سوچیے، جو قدم ہم محفل کی طرف اٹھاتے ہیں، اگر وہی قدم علم کی طرف اٹھیں تو ہر قدم جنت کی طرف بڑھنے والا قدم بن جائے۔اسلام کی پہلی بڑی اجتماع گاہ مسجد ِ نبوی تھی اور وہ عبادت گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک درس گاہ بھی تھی۔ وہاں صفہ کا چبوترہ تھا جہاں طلبہ رہتے، سیکھتے اور پھر دوسروں کو سکھانے نکل جاتے۔ وہاں قرآن کے معانی بیان ہوتے، احکام سمجھائے جاتے اور لوگوں کے سوالوں کے جواب دیے جاتے۔ یہی ہماری اصل روایت ہے: مسجد علم کا مرکز ہو، اور اجتماع سیکھنے کا ذریعہ۔
محبت ِ رسول ؐ ایمان کی جان ہے، اور نعت اس محبت کا خوبصورت اظہار، مگر محبت کا سب سے سچا ثبوت یہ ہے کہ محبوبؐ کی لائی ہوئی کتاب کو سمجھا جائے، ان کے فرمودات کو جانا جائے اور ان کی سنت کو زندگی میں اتارا جائے۔ جو محبت علم سے خالی ہو، وہ جذبہ تو ہو سکتی ہے، مگر رہنمائی نہیں بن سکتی۔ جذبہ چند لمحوں کیلئے دِل گرماتا ہے، علم عمر بھر راستہ دکھاتا ہے۔
ایک لمحے کو تصور کیجیے: ایک شخص برسوں محافل میں شریک ہوتا رہے، مگر وضو اور نماز کے ضروری مسائل نہ جانتا ہو، قرآن کو درست مخارج کے ساتھ نہ پڑھ سکتا ہو،اور سورہئ فاتحہ کا مفہوم تک نہ سمجھتا ہو۔ کیا ہمارے دینی اجتماعات کا یہی حاصل ہونا چاہئے؟تبدیلی کیلئے نئے ادارے بنانے کی ضرورت نہیں، جو اجتماعات پہلے سے ہو رہے ہیں انہی کا رخ بدلنا ہے:ہر دینی اجتماع کا مرکزی حصہ درسِ قرآن ہو۔ چند آیات کی تلاوت، ان کا ترجمہ اور آسان تشریح، تاکہ ہر شریک کم از کم ایک پیغام سمجھ کر گھر جائے۔ہر نشست میں ایک حدیث سنائی اور سمجھائی جائے، اور سامعین کو اسے یاد کرنے کی ترغیب دی جائے۔ سال بھر میں یہی عمل ہر شخص کو درجنوں احادیث کا حافظ بنا سکتا ہے۔روزمرہ کے ضروری مسائل، جیسے طہارت، نماز، روزہ، حلال و حرام اور معاملات، باقاعدہ سکھائے جائیں اور لوگوں کو سوال پوچھنے کا موقع دیا جائے۔اجتماعات کیلئے جمع ہونے والے وسائل کا بڑا حصہ تعلیم پر خرچ ہو۔ ایک رات کی سجاوٹ اور شور شرابے پر جو رقم اٹھتی ہے، اس سے کسی مسجد میں سال بھر کیلئے قرآن و تجوید کا استاد رکھا جا سکتا ہے۔ہر مسجد میں بڑوں کیلئے ناظرہ، تجوید اور ترجمہ قرآن کی کلاسیں شروع کی جائیں۔ بہت سے لوگ عمر کے اس حصے میں جھجک کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں، انہیں عزت اور محبت سے یہ موقع دیا جائے۔
نوجوانوں کیلئے قرآن فہمی اور سیرت کے مختصر کورس آسان اور جدید انداز میں ترتیب دیے جائیں، کیونکہ آج کا نوجوان سوال کرتا ہے اور دلیل سے مطمئن ہوتا ہے۔نعت بھی پڑھی جائے، مگر علم کی مجلس کا حصہ بن کر، اس کا متبادل بن کر نہیں۔دین صرف بیان نہیں، تربیت ہے۔ اجتماع کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ کتنے لوگ آئے، کتنی دیر نعرے لگے اور کتنا چندہ اکٹھا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ لوگ کیا سیکھ کر گئے اور ان کی زندگی میں کیا بدلا۔ہمارے پاس لوگ ہیں، جذبہ ہے، وسائل ہیں اور مساجد ہیں۔ کمی صرف ترجیح کی ہے۔ اگر ہم فیصلہ کر لیں کہ ہمارا ہر اجتماع ایک مجلس ِ علم ہوگا، جہاں قرآن سمجھا جائے گا، حدیث سکھائی جائے گی اور دین کی بصیرت عام ہوگی، تو چند برسوں میں یہی عوام علم کی پہچان بن سکتے ہیں۔آئیے، اپنی محفلوں کو وہ رنگ دیں جس کی تصویر رسول اللہ ؐ نے کھینچی: جہاں کتاب اللہ پڑھی اور پڑھائی جائے، جہاں سکینت اترے، رحمت ڈھانپ لے اور فرشتے گھیر لیں۔ یہی مجلس دنیا کی بھی کامیابی ہے اور آخرت کی بھی۔
بشکریہ: روزنامہ پاکستان

