جو بات ہم چاہتے ہیں کہ سچ ہو۔ اسے بغیر کافی دلیل کے سچ سمجھ لینا خوش فہمی ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں خوش فہمی کا مطلب ایسی امید بھری اچھی سوچ یا یقین جو کسی حقیقی ثبوت کے بغیر اپنے یا کسی دوسرے شخص کے بارے میں یا کسی صورت حال کے بارے میں اپنے طور پر قائم کرلیتا ہے ۔ کوئی شائستگی سے بات کرے اور آدمی سمجھ لے کہ وہ اسے پسندکرتا ہے۔ خوش فہمی ہوتی ہے۔ کسی امتحان کے لئے کم تیاری کے ساتھ سمجھے کہ وہ اچھے نمبر وں سے پاس ہوجائے گا۔ کاروبار میں مسلسل گھاٹے کے باوجود اپنا طرز عمل تبدیل کئے بغیر سمجھے کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ کوئی کسی کی اچھی بات کی تعریف کرے تو سمجھے وہ اس سے مکمل طور پر اتفاق کرتاہے، خوش فہمی ہوتی ہے۔ خوش فہمی اور امید میں ایک بنیادی فرق ہوتا ہے وہ یہ کہ امید میںآدمی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اچھے نتیجے کی خواہش کرتا ہے جبکہ خوش فہمی میں آدمی اپنی امید کو حقیت سمجھ لیتا ہے۔ امید کا مطلب یہ ہے کہ میں محنت کروں گا تو کامیاب ہوجائوں گا۔ خوش فہمی یہ ہے کہ میں محنت کئے بغیر ہی کامیاب ہوجائوں گا۔ خوش فہمی اور غلط فہمی کے فرق کا بھی یہاں سمجھنا ضروری ہے۔ کسی بات ،شخص یا صورت حال کو حقیقت کے خلاف سمجھ لینا غلط فہمی ہوتی ہے۔ یعنی حقیقت سے بڑھ کر سچ سمجھنا خوش فہمی اورحقیقت کو غلط سمجھنا غلط فہمی ہوتی ہے۔ بات کو اور زیادہ آسان کیا جائے تو خوش فہمی میںآدمی اپنی خواہش کے مطابق حقیقت کو دیکھتا ہے جبکہ غلط فہمی میںآدمی حقیقت کو نا تودرست طور پر دیکھتا ہے اور ناہی سمجھ ہی پاتا ہے۔
خوش فہمی کا شکار صرف اَن پڑھ ،جاہل ،گنوار ،اُجڈ اور بیوقوف لوگ ہی نہیں ہوتے ۔ بڑے بڑے عالم فاضل، زاہد وعابد،نامور حضرات وخواتین ،مشہور ومعروف رہنما یان قوم وملت ،بڑے بڑے شاعر ،ادیب ،اداکار، لکھاری اور ہنر مند لوگ بھی اکثر بڑی بڑی خوش فہمیوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ یہاں خود پسندی اور خوش فہمی کا فرق بھی سمجھ لینا چاہے۔ خود پسندی اپنی ذات سے ہوتی ہے جبکہ خوش فہمی کسی اور کے بارے میں ہوتی ہے۔ ایک شخص خود پسند ہوئے بغیر بھی خوش فہم ہوسکتا ہے اگر کسی دوسرے کے جذبات کے بارے میں غلط اندازہ لگالے ۔ اسی طرح کوئی خوش فہمی میںمبتلا ہوئے بغیر بھی خود پسند ہوسکتا ہے اگراسے اپنی صلاحیتوں پر ضرورت سے زیادہ اعتماد ہو۔ خوش فہمی اپنی ذات میں نا تو کوئی گناہ ہے ناہی بیماری اور ناہی کسی احساس کمتری کا نام ہے۔ یہ بنیادی طور پر حقیقت کے بارے میں ضرورت سے زیادہ مثبت یا غیر حقیقی تصور قائم کرلینا ہوتاہے۔
خوش فہمیوں کی چند اقسام بھی ہوتی ہیں۔ ایک تو عام خوش فہمی ہوتی ہے جو کسی معاملے میں ضرورت سے زیادہ اچھا نتیجہ فرض کر لینے سے پیدا ہوتی ہے۔ دوسری نقصان دہ خوش فہمی ہوتی ہے جو حقائق کو نظر انداز کرکے اپنے تصور کو حقیقت سمجھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ جس کے باعث آدمی سے غلط فیصلے سرزد ہوتے ہیں ۔ تیسر ی خوش فہمی احساس کمتری سے پیدا ہوتی ہے جو آدمی اپنی کسی کمی یا خامی کو چھپانے کے لئے اپنے بارے میں ایک بلند تصور قائم کرلیتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ چوتھی ایک اور بہت تباہ کن قسم کی خوش فہمی ہوتی ہے ، جو کسی شخص کے غیر حقیقی یقین کے حقائق سے واضح طور پر منقطع ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ خوش فہمی کی یہ شکل ایک نفسیاتی مسئلے کا روپ دھار کر خوفناک بیماری بن جاتی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ خوش فہمی حد سے زیادہ بڑھ جائے تو غلط فہمی بن جاتی ہے۔ خوش فہم اپنے لئے خطر ناک یا نقصان دہ ہوسکتاہے جبکہ غلط فہمیوں میں مبتلا شخص اپنے خاندان ،گلی محلے اور معاشرے کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میںقبیلے ،قومیں ملک اور معاشرے جن لوگوں کے ہتھے چڑھ کر تباہیوں اور بربادیوں کا شکار ہوئے وہ پہلے خوش فہیموں میں مبتلا ہوئے اور پھر بھیانک اور جان لیوا قسم کی غلط فہمیوں کا شکار ہوکر بدترین مظالم اور بربرتیوں کے مرتکب ہوئے۔
ایسا نہیں ہے کہ صرف ایک یا دوقسم کے لوگ ہی خوش فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ نہیں ۔ ہر گز نہیں۔ تقریبا ً سبھی لوگ، ہر سطح اور ہر مقام پر خوش فہمیوں کا ناصرف شکار رہتے ہیں بلکہ خوش فہمیوں کے سرپر جیتے ہیں۔ ہمارے ایک مرحوم دوست نے جب سی ایس ایس میں ٹاپ کیا تو ٹرنینگ مکمل کرنے بعد مبینہ طور پر ساری کتابیں فلش میں بہادیں ۔کیونکہ اُن کا مقصد پورا ہوچکا تھا۔ اس قیبح اور دلخراش حرکت کا خمیازہ اُسے زندگی بھر کی معذوری کی صورت میں بھگتنا پڑا ۔ پھر بھی لوگ پوری زندیگاں خوش فہمیوں میں گزاردینے کی عبرت نہیں پکڑتے ۔ امیر اپنی امارت کے بارے میں خوش فہمی کا شکار رہتا ہے۔ریا کار کو اپنے زہد وعبادت پر بڑی خوش فہمی ہوتی ہے ،چاک وچوبند اپنی صحت وتندرستی پر خوش فہم رہتاہے۔ منصب دار اور مقتدر ہمیشہ اس خوش فہمی کا شکار رہتا ہے کہ اس کا اقتدار، جاہ وجلال اور کروّفر ہمیشہ قائم ودائم رہے گا۔ خوش فہمی تو ابلیس لعین کو اللہ رب العزت تک کا نافرمان بنادیتی ہے ۔ عورت کے اندر عمر ڈھل جانے کے باوجود اپنی خوبصوری اور کشش کے بارے میں ایک لازوال خوش فہمی زندہ جاوید رہتی ہے۔ ان سب سے بڑھ کر ہر گھر گھر، خاندان اور برادری میں خود ساختہ ٹا رزن نما شخص ہمیشہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ لوگ اسے بھی مرد ہی سمجھتے ہیں ۔ جو بیچارہ بیوی کے سامنے چوں نہیں کرسکتا وہ بڑے بڑے دفتروں ، ایوانوں ، میڈیا ہائو سس، کارپوریشنوں، سرکاری اور غیر سرکاری اور بڑے بڑے کاروباری اداروں ،یونیورسٹیوں ،کالجوں اور حتیٰ کہ عدالتوں اور مدرسوں تک میں وہ اچھل کود کرتا ہے، رعب جھاڑتا ہے اور اور دندناتا پھرتا ہے جیسے کبھی گھر جائے گا ہی نہیں ۔
خوش فہمی کا مطلب ہی یہ ہے کہ آدمی ایسی بات پر خوش ہو نا اور اترانا شروع کردے جس کے ہونے نا ہونے کے بارے میں اسے کچھ پتا ہی نا ہو۔ اس لئے خوش فہمی دیوانگی سے کچھ کچھ ملتی جلتی کیفیت ہو تی ہے۔
خوش فہمی کا علاج کیا ہے؟ خو ش فہمی میںمبتلا ہونے سے کیسے بچا جا سکتا ہے ؟ انا کو بالا ئے طاق رکھنے سے ۔ سچی بات کہنے اور سننے سے۔ جھوٹ نہ بولنے اور نہ ہی سننے سے۔ منافقت نہ کرنے سے۔ ظلم نہ کرنے سے۔ فساد نہ پھلانے سے ۔ اللہ اور رسول ؐ کو ایذا نہ پہچانے سے۔ خوش فہمیوں سے بچا جا سکتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ اللہ نے یہ باتیں یا کام کرنے والوں پر لعنت کی ہے کیونکہ یہ جہالتیں ہیں۔ جاہل گمراہ ہو تا ہے۔ سیدھے راستے پر نہیں چڑھ سکتا ۔ سیدھے ر استے پرچلنے سے کسی بھی قسم کی خو ش فہمی پَر تک نہیں مار سکتی۔ خدا ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

