اسکول جانے والے بچوں میں بار بار سر درد، کس مسئلے کی علامت ہوسکتا ہے؟

شیئر کریں

دبئی: بچوں میں سر درد کو عام شکایت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، خصوصاً جب یہ مسئلہ بار بار پڑھنے، ہوم ورک کرنے یا موبائل، ٹیبلیٹ اور کمپیوٹر استعمال کرنے کے بعد سامنے آئے۔ ماہرین کے مطابق بعض صورتوں میں نظر کی کمزوری، آنکھوں کی تھکن یا قریب کی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری بھی سر درد کی وجہ بن سکتی ہے۔

صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین اطفال کا کہنا ہے کہ والدین کو بچے کی بینائی سے متعلق ایسی علامات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے جو بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہیں۔ اگر بچہ کتاب یا اسکرین کو غیر معمولی طور پر قریب رکھ کر دیکھے، آنکھیں سکیڑ کر چیزوں کو دیکھنے کی کوشش کرے، بار بار آنکھیں ملے، پڑھنے میں دشواری محسوس کرے یا اسے دھندلا یا دوہرا دکھائی دے تو آنکھوں کا معائنہ کرانا مفید ہوسکتا ہے۔

ماہر اطفال ڈاکٹر ممتا بوتھرا کے مطابق نظر کا درست نہ ہونا یا آنکھوں کا مناسب طور پر توجہ مرکوز نہ کرپانا، خاص طور پر طویل وقت تک پڑھنے یا قریب سے کام کرنے کی صورت میں، آنکھوں پر دباؤ اور سر درد کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بچوں میں ہونے والے ہر سر درد کو نظر کی خرابی سے منسلک کرنا درست نہیں، کیونکہ اس کی متعدد دوسری وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق اگر بچہ بار بار پڑھائی یا کسی دوسرے قریبی کام کے دوران سر درد کی شکایت کرے تو مکمل آنکھوں کا معائنہ کرانا مناسب قدم ہوسکتا ہے۔ اس طرح صرف نظر کے نمبر کا ہی نہیں بلکہ آنکھوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور دونوں آنکھوں کے درمیان مناسب ہم آہنگی کے مسائل کا بھی پتا چل سکتا ہے۔

ماہر اطفال ڈاکٹر رووینا بینیتا سیبیا نے بھی والدین کو خبردار کیا ہے کہ سر درد کی وجہ معلوم کیے بغیر اسے کمزور نظر کا نتیجہ قرار نہیں دینا چاہیے۔ ان کے مطابق بچوں میں سر درد کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، اس لیے بار بار ہونے والی شکایت کا مناسب طبی جائزہ ضروری ہے۔

ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بچوں کی نیند پوری رکھنے کے ساتھ انہیں مناسب مقدار میں پانی پلایا جائے اور پڑھائی یا اسکرین کے استعمال کے دوران کمرے میں روشنی بھی مناسب ہو۔ طویل عرصے تک مسلسل قریب سے دیکھنے کے بجائے درمیان میں وقفہ دینا بھی آنکھوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

اسکرین کے استعمال کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ نظر بالکل درست ہونے کے باوجود موبائل، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر کو طویل وقت تک مسلسل دیکھنے سے آنکھوں میں تھکن پیدا ہوسکتی ہے۔ اس لیے بچوں کو اسکرین سے مناسب فاصلہ رکھنے، وقفے لینے اور روزمرہ معمول میں کچھ وقت گھر سے باہر گزارنے کی عادت ڈالنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر رووینا سیبیا نے بچوں کے لیے 20-20-20 اصول اپنانے کی تجویز دی ہے۔ اس اصول کے تحت تقریباً ہر 20 منٹ بعد اسکرین یا قریب کی چیز کو دیکھنے سے وقفہ لے کر کم از کم 20 سیکنڈ تک تقریباً 20 فٹ دور موجود کسی چیز پر نگاہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اس معمول سے مسلسل قریب دیکھنے کے نتیجے میں آنکھوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو صرف اس وقت بچے کی آنکھوں کا معائنہ نہیں کرانا چاہیے جب وہ خود بینائی میں خرابی کی شکایت کرے۔ بعض بچے کمزور نظر کے ساتھ رفتہ رفتہ خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور انہیں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ معمول کے مطابق نہیں دیکھ رہے۔

ابوظبی کے ماہر اطفال ڈاکٹر ثنا شوکر کے مطابق آنکھوں کا معائنہ محض نظر کے نمبر تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے ذریعے آنکھوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت، دونوں آنکھوں کے باہمی تال میل اور کم عمری میں بینائی سے متعلق بعض مسائل کی بھی شناخت کی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے بعض مسائل بتدریج پیدا ہوتے ہیں اور ابتدا میں ان کی نمایاں علامات سامنے نہیں آتیں۔ اس لیے بچے کی جانب سے شکایت نہ کیے جانے کے باوجود باقاعدگی سے نظر کی جانچ اہم ہے۔ بروقت تشخیص سے نہ صرف علامات کو قابو کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ بچے کی پڑھائی، جماعت میں شرکت، اعتماد اور تعلیمی کارکردگی بھی بہتر ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اسکول جانے والے بچوں کی بینائی کی باقاعدہ جانچ ہونی چاہیے۔ عمومی طور پر اسکول کے زمانے میں ہر 1 سے 2 سال کے دوران نظر کا معائنہ مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم بچے کی علامات، طبی ضرورت یا اسکول اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اس سے پہلے بھی معائنہ کرایا جاسکتا ہے۔ اگر بچے کو پڑھنے میں دشواری ہو، ابتدائی جانچ میں کوئی مسئلہ سامنے آئے یا خاندان میں آنکھوں کی اہم بیماری کی تاریخ موجود ہو تو مکمل معائنہ زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔

دوسری جانب اگر سر درد کے ساتھ الٹی، بخار، نیند میں نمایاں خرابی، گردن میں اکڑاؤ، رویے میں غیر معمولی تبدیلی، الجھن یا اچانک انتہائی شدید درد کی شکایت ہو تو اسے محض نظر کی کمزوری سمجھ کر انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق بچوں میں اسکرین کے بڑھتے ہوئے استعمال اور کم عمری میں بینائی سے متعلق مسائل کے رجحان کے باعث آنکھوں کی باقاعدہ جانچ کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ ہر سر درد کو نظر کی خرابی نہ سمجھیں، لیکن اگر شکایت بار بار ایک ہی سرگرمی کے دوران ظاہر ہو تو اسے نظر انداز بھی نہ کریں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچے کی تعلیم اور مجموعی نشوونما میں صحت مند بینائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اس لیے اسکول جانے کی عمر میں نظر سے متعلق کسی بھی ممکنہ مسئلے کی بروقت شناخت بچے کی صحت، تعلیمی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔

 


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے