عمان اجلاس میں پیر کو آبنائے ہرمز معاہدے پر دستخط متوقع نہیں، ایرانی عہدیدار

شیئر کریں

ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پیر کو عمان میں ہونے والا اجلاس آبنائے ہرمز سمیت مختلف امور پر بات چیت کا موقع فراہم کرے گا، تاہم اس سے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی معاہدے پر دستخط متوقع نہیں، یہ بات ایرانی حکام کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ہفتے کے روز بتائی ہے۔

ایران کئی ماہ سے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی نقل و حمل کے ضابطے سے متعلق معاہدے پر مذاکرات کر رہا ہے۔ عمان آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔ عمان طویل عرصے سے کہتا آیا ہے کہ اس کے مذاکرات کو خلیج میں موجود دیگر عرب ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔

تہران نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وہ پیر کو عمان میں خلیجی ممالک کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں شرکت کرے گا۔ عمان نے تاحال اجلاس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس حوالے سے خاموش ہیں۔ بحرین نے ہفتے کو کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

ایرانی عہدیدار، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجوزہ اجلاس کے بارے میں بات کی، کہا کہ پیر کا اجلاس عمان کی درخواست پر منعقد کیا جا رہا ہے اور اس میں آبنائے ہرمز کے علاوہ خطے کے دیگر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران اب بھی ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جس کے تحت اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کی اجازت ہو، تاہم عمان اس تجویز کو مسترد کرتا ہے۔

فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کی جانب سے ٹینکروں کو نشانہ بنانا ہے۔ دوسری جانب یمن میں حوثی اتحادی جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب تیل کی ایک اور اہم گزرگاہ، آبنائے باب المندب کے قریب بھی پیش قدمی کر رہے ہیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے