بیجنگ: چین اپنی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے جدید ہیومنائیڈ روبوٹس کو جنگی میدان میں استعمال کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔
حال ہی میں منعقدہ روبوٹ گیمز کے بعد چینی عسکری حکام نے ان مشینوں کو لیبارٹریوں سے نکال کر براہِ راست عسکری تربیت کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ ماہ منعقدہ ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں جدید مشینوں نے باکسنگ، دوڑ اور ڈانس سمیت کئی حیرت انگیز صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
ان روبوٹس کی غیر معمولی پھرتی اور متحرک انداز کو دیکھ کر چینی دفاعی ماہرین نے انہیں مستقبل کے جنگی محاذوں کے لیے انتہائی موزوں قرار دیا ہے اور فوری عملی اقدامات شروع کردیے ہیں۔
پیپلز لبریشن آرمی ڈیلی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق چین کا دفاعی شعبہ ہیومنائیڈ روبوٹس کے فوجی استعمال پر تیزی سے تحقیق کر رہا ہے۔ ان روبوٹس کو ایسی پیچیدہ جنگی کارروائیوں میں استعمال کرنے کا منصوبہ ہے جہاں انسانی فوجیوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں اور انسانی رسائی مشکل ہوتی ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور سرکاری دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ چین اس ٹیکنالوجی پر سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ حکام نے 100 سے زائد فوجی خریداری نوٹسز اور پیٹنٹس کا جائزہ لیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں روبوٹس کا کردار کلیدی ہونے والا ہے اور تیاریوں میں شدت لائی جا رہی ہے۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس کو میدانِ جنگ کے سخت ماحول کے مطابق ڈھالنے کے لیے مسلسل تجربات کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ تحقیق کا بنیادی مرکز روبوٹس کی ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت، اشیا کو درست طریقے سے پکڑنے اور انسانی فوجیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی مہارت پر ہے۔
ان خودکار مشینوں کو جنگی تربیت دینے کے لیے درکار ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جس میں 2025 اور 2026 کے دوران نمایاں پیش رفت متوقع ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن چین کی جانب سے اسے عملی شکل دینے کی کوششیں عالمی دفاعی توازن میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔




