بین شیلٹن نے اسٹیفانوس سیتسیپاس کو شکست دے کر یو ایس اوپن کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی، تاہم ان کی فتح کے ساتھ ہی مردوں کے مقابلوں میں ایک ہاتھ سے بیک ہینڈ کھیلنے والا کوئی کھلاڑی باقی نہ رہا اور گرینڈ سلیم ٹینس کی 149 سالہ روایت بھی ختم ہوگئی۔
جدید دور کی طاقتور ٹینس میں خوبصورت اور روایتی ون ہینڈڈ بیک ہینڈ بتدریج ٹو ہینڈڈ شاٹ کے سامنے اپنی جگہ کھوتا جا رہا ہے۔ 1877 میں ومبلڈن کے آغاز سے اب تک ہر سال کسی نہ کسی کھلاڑی نے کسی بڑے ٹورنامنٹ کے مردوں کے سنگلز سیمی فائنل میں ون ہینڈڈ بیک ہینڈ کے ساتھ رسائی حاصل کی تھی، تاہم نیویارک میں یہ سلسلہ اختتام پذیر ہوگیا۔
راجر فیڈرر اور اسٹین واورِنکا اس انداز کے جدید دور کے نمایاں کھلاڑی رہے، جبکہ اس روایت میں جان میک اینرو اور ایوان لینڈل کے علاوہ 1990 کی دہائی کے پیٹ سمپراس، اسٹیفن ایڈبرگ اور گستاو کوئرٹن بھی شامل تھے۔
شیلٹن نے چوتھے راؤنڈ میں سیتسیپاس کو شکست دینے سے قبل تیسرے راؤنڈ میں ون ہینڈڈ بیک ہینڈ کھیلنے والے بائیں ہاتھ کے کھلاڑی ڈینس شاپووالوف کو بھی ہرایا۔
سیتسیپاس نے شکست کے بعد کہا کہ 1950 کی دہائی میں 97 سے 98 فیصد کھلاڑی ون ہینڈڈ بیک ہینڈ استعمال کرتے تھے، لیکن اب یہ شرح محض 2 سے 3 فیصد رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک روایتی اور کلاسک شاٹ ہے، اس لیے اس کا ختم ہونا افسوسناک ہے۔




