ایک خاموش سوال: کیا ہم اپنے جسم کی بات سنتے ہیں؟ (قسط دوئم) ڈاکٹر سائرہ بانو

شیئر کریں

گزشتہ قسط میں ہم نے ایک بنیادی سوال اٹھایا تھا:

کیا ہم اپنے جسم کی بات سنتے ہیں؟

ہم نے جانا کہ Breast میں ہر گلٹی Cancer نہیں ہوتی، لیکن ہر نئی یا غیر معمولی تبدیلی کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔

آج ہم بات کریں گے اس سے آگے کی۔

اگر Awareness پہلا قدم ہے تو *Prevention، Appropriate Screening اور Healthy Living اگلے قدم ہیں۔

کیا ہم اپنے Risk کو کم کر سکتے ہیں؟

Breast cancer کی تمام وجوہات ہمارے اختیار میں نہیں ہوتیں۔

عمر، Genetics، Family History اور بعض دیگر عوامل کو ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔

لیکن طرز زندگی کے کچھ عوامل (Lifestyle Factors) ایسے ہیں جن پر ہم کام کر سکتے ہیں۔

اور یہی Preventive Healthcare کی خوبصورتی ہے:

ہم ہر بیماری کو روک نہیں سکتے، لیکن اپنی مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

جسم کو حرکت دیجیے

جسمانی سرگرمی (Physical Activity) صرف وزن کم کرنے کے لیے نہیں۔

باقاعدہ جسمانی سرگرمی مجموعی صحت کے لیے اہم ہے اور کئی Chronic Diseases کے Risk Management میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

روزانہ Brisk Walking، Cycling  ,Swimming، Stretching یا اپنی جسمانی استطاعت کے مطابق کوئی سرگرمی اختیار کیجیے۔

ضروری نہیں کہ آپ روزانہ Gym جائیں۔

اہم بات یہ ہے کہ جسم کو مسلسل Inactive نہ رہنے دیں۔

وزن کے بارے میں متوازن سوچ

Healthy Weight کا مطلب یہ نہیں کہ ہر عورت ایک مخصوص Figure حاصل کرے۔

صحت کو صرف Weighing Scale سے نہیں ناپا جا سکتا۔

مقصد یہ ہونا چاہیے کہ غذا متوازن ہو، جسم فعال ہو اور وزن ایک صحت مند Range میں رکھنے کی کوشش کی جائے۔

Extreme Dieting، Crash Diets اور غیر ضروری Weight-Loss Products سے احتیاط ضروری ہے۔

غذا: جسم کے لیے خام مال

ایک متوازن غذا (Balanced Diet) عورت کی مجموعی صحت کا بنیادی حصہ ہے۔

اپنی غذا میں:

* سبزیاں
* پھل
* Whole Grains
* دالیں
* مناسب Protein
* Nuts and Seeds
* مناسب مقدار میں Healthy Fats

شامل کریں۔

Highly Processed Foods، Excessive Sugar اور غیر متوازن کھانے کی عادت کو محدود کرنا بھی فائدہ مند ہے۔

لیکن یاد رکھیے:

*کوئی ایک معجزاتی غذا "Miracle Food” ” کینسر سے حفاظت کی ضمانت نہیں دیتا۔*

صحت ہمیشہ مجموعی طرز زندگی (Life Style) سے بنتی ہے۔

نیند اور Stress بھی اہم ہیں

عورت کے جسم پر مسلسل Stress کے اثرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

گھر، ملازمت، بچوں، مالی معاملات اور خاندان کی ذمہ داریاں ذہنی دباؤ پیدا کر سکتی ہیں۔

Stress کو مکمل طور پر ختم کرنا ہمیشہ ممکن نہیں۔

لیکن اسے Manage کرنا سیکھا جا سکتا ہے۔

نماز، دعا، قرآنِ کریم کی تلاوت، Breathing Exercises، Walking، Journaling، Family Support اور مناسب Counselling بعض افراد کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اور نیند؟

اسے Luxury نہ سمجھیں۔

*Sleep is a health necessity.*

اگر تشخیص (Diagnosis) ہو جائے تو؟

یہ وہ لمحہ ہے جس میں ایک عورت کو سب سے زیادہ Emotional Support کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

Diagnosis کے بعد خوف، غصہ، Sadness اور Uncertainty محسوس کرنا انسانی فطرت ہے۔

ایسے وقت میں عورت کو صرف Medical Treatment نہیں بلکہ *Compassionate Care* بھی چاہیے۔

اس کے خاندان کو چاہیے کہ اسے خوفزدہ کرنے کے بجائے اس کا حوصلہ بڑھائیں۔

اس کے سوالات سنیں۔

اس کے Appointments میں ضرورت کے مطابق ساتھ دیں۔

اور سب سے بڑھ کر اسے یہ احساس دیں:

*”آپ اکیلی نہیں ہیں۔”*

## ہومیوپیتھی اور Holistic Support

ہولسٹک Healthcare انسان کو صرف بیماری کے نام سے نہیں دیکھتی۔

ہومیوپیتھک Practice میں فرد کی مجموعی علامات، Sleep، Emotional State، Appetite، Digestion اور عمومی Constitutional Picture کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بعض خواتین General Well-being، Stress، Sleep یا Treatment Journey کے دوران Supportive Complementary Care میں دلچسپی رکھ سکتی ہیں۔

لیکن ایک اہم اصول ہمیشہ سامنے رہنا چاہیے:

*Complementary care is not a substitute for cancer treatment.*

اگر Breast Cancer Diagnose ہو جائے تو Oncologist کی تجویز کردہ Evidence-based Treatment میں تاخیر یا اسے چھوڑ دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔

Homeopathy یا دوسری Complementary Approaches صرف Qualified Healthcare Professionals کے مشورے اور Appropriate Medical Treatment کے ساتھ Supportive Role میں زیرِ غور آنی چاہئیں۔

یہی responsible holistic healthcare ہے۔

روحانی صحت بھی اہم ہے

بیماری کے مشکل سفر میں ایمان انسان کو امید دے سکتا ہے۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

*”اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔”*
(سورۃ الشعراء: 80)

شفا کی امید انسان کو علاج سے دور نہیں کرتی؛ بلکہ مشکل وقت میں صبر، حوصلہ اور امید دیتی ہے۔

دعا کے ساتھ علاج، توکل کے ساتھ تدبیر اور امید کے ساتھ مناسب Medical Care — یہ ایک متوازن راستہ ہے۔

عورت کے لیے پانچ وعدے

آج ہر عورت خود سے پانچ وعدے کرے:

*1.* میں اپنے جسم کی غیر معمولی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کروں گی۔

*2.* میں اپنی عمر اور Risk Factors کے مطابق Screening کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کروں گی۔

*3.* میں اپنی غذا اور Physical Activity کو بہتر بنانے کی کوشش کروں گی۔

*4.* میں اپنی Emotional اور Spiritual Well-being کو بھی اہمیت دوں گی۔

*5.* میں کسی بھی Serious Diagnosis کی صورت میں خوف کے بجائے Qualified Medical Guidance حاصل کروں گی۔

Myth vs Fact

*Myth:* Breast Cancer صرف بڑی عمر کی خواتین کو ہوتا ہے۔

*Fact:* Risk عمر کے ساتھ بڑھ سکتا ہے، لیکن کم عمر خواتین بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ غیر معمولی تبدیلی کو صرف عمر کی وجہ سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

*Myth:* ہر Breast Lump کینسر ہوتا ہے۔

*Fact:* بہت سی Breast Lumps نرم ہوتی ہیں، لیکن نئی Lump کی Appropriate Medical Assessment ضروری ہے۔

*Myth:* اگر درد نہیں تو فکر کی ضرورت نہیں۔

*Fact:* Breast cancer ہمیشہ درد کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتا۔

*Myth:* Healthy Lifestyle کینسر کو مکمل طور پر روک سکتا ہے۔

*Fact:* صحت مند Lifestyle مجموعی Health اور بعض Risk Factors کے Management میں مددگار ہو سکتا ہے، لیکن یہ کینسر سے مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں ہے۔

ڈاکٹر سائرہ بانو کا خصوصی پیغام

ہمیں Breast Cancer کے بارے میں بات کرتے ہوئے خوف کی زبان سے نکل کر *Awareness کی زبان* اختیار کرنی ہوگی۔

عورت کو ڈرانا نہیں، بااختیار بنانا ہے۔

اسے یہ بتانا ہے کہ:

*آپ اپنے جسم کو جان سکتی ہیں۔*

*آپ سوال پوچھ سکتی ہیں۔*

*آپ Screening کے بارے میں فیصلہ سمجھ کر کر سکتی ہیں۔*

*آپ Medical Help حاصل کر سکتی ہیں۔*

اور اگر کبھی زندگی آپ کو کسی مشکل Diagnosis کے سامنے لے آئے تو:

*آپ کو اکیلے اس سفر سے گزرنے کی ضرورت نہیں۔*

آخر میں ایک چھوٹا سا پیغام

اپنے بچوں کے لیے صحت مند رہنا ضروری ہے۔

اپنے خاندان کے لیے صحت مند رہنا ضروری ہے۔

لیکن سب سے بڑھ کر—

*اپنے لیے صحت مند رہنا بھی ضروری ہے۔*

خوف نہیں—آگاہی

تاخیر نہیں—بروقت توجہ۔
تنہائی نہیں—سپورٹ۔
اور بے بسی نہیں—بااختیار صحت مند زندگی۔

 

Dr. Saira Bano

M.A, D.H.M.S, R.H.M.P, F.T.J. Diploma in Aesthetics

ڈاکٹر سائرہ بانو ایک معروف ہومیوپیتھک اور ہجامہ تھراپسٹ، ایستھیٹیشن، طبیبہ اور کروموپیتھ ہیں۔ وہ صحت، روحانیت اور متبادل طریقۂ علاج کے امتزاج پر مبنی شعور اجاگر کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
وہ President – Pakistan Preventive and Holistic Society (Women Wing) اور Vice President – SAARCGWI, Geneva, Switzerland کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جبکہ Patron – Pakistan Association of the Deaf اور Board Member – Help International Welfare Trust بھی ہیں۔

Dr. Saira Bano ایک ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن، مصنفہ، کالم نگار، آرٹسٹ، موٹیویشنل اسپیکر اور FM و ریڈیو ہوسٹ ہیں۔ صحتِ عامہ، خواتین کی فلاح، روحانی توازن اور قدرتی علاج ان کی تحریروں اور گفتگو کا خاص موضوع ہیں.

 

 


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے