تیزی سے بڑھتے ہمارے خانگی اور سماجی مسائل – مختار چودھری

شیئر کریں

ہمارے ملک اور معاشرے میں بے شمار مسائل ہیں، اور تقریباً ہر مسئلہ فوری توجہ اور حل کا تقاضا کرتا دکھائی دیتا ہے، کسی بھی معاشرے میں بعض مسائل کا تعلق خراب معیشت، بے روزگاری یا وسائل کی کمی سے ہوتا ہے، جبکہ کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو فرسودہ سوچ، قدیم روایات اور سماجی رویّوں سے جنم لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں صدیوں پرانی روایات آج بھی مضبوطی سے موجود ہیں، مختلف علاقوں میں اب بھی قبائلی نظام کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب، بلوچستان اور اندرونِ سندھ کے کئی علاقوں میں جہالت، تنگ نظری اور طاقت کے غلط استعمال نے سماجی زندگی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان میں ایسے کئی افسوسناک واقعات پیش آئے جن کا تعلق اسی فرسودہ سوچ اور نام نہاد غیرت سے تھا۔ سندھ میں ایک جگہ پسند کی شادی پر پورے گاؤں کو آگ لگا دی گئی، سوال یہ ہے کہ یہ غصے کا اظہار تھا، غیرت کا، عزت کا یا محض طاقت کے نشے کا؟ ایک دوسرے واقع میں پسند کی شادی کرنے والے لڑکے کے گھر پر حملہ کیا گیا، خاندان کے افراد پر تشدد کیا گیا اور گھر کی تین خواتین کو اغوا کر لیا گیا۔

پنجاب میں بھی ایسے دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آئے، لاہور جیسے بڑے اور ترقی یافتہ شہر میں پسند کی شادی کرنے والی ایک دلہن شادی کے صرف دو ماہ بعد قتل کر دی گئی۔ پولیس کے مطابق اس کا قاتل اس کا اپنا شوہر تھا، اسی طرح جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی میں ایک دیور نے اپنی پانچ ماہ قبل بیاہی جانے والی بھابھی پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی، جو بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گئی، ان سطور کی تحریر کے دوران ایک اور افسوسناک خبر سامنے آئی کہ سندھ سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی شادی کے بعد بلوچستان چلی گئی تھی، جہاں پنچایت کے ذریعے اسے واپس لایا گیا اور بعد میں اس کے بھائیوں نے اسے قتل کر دیا۔

یہ صرف چند واقعات ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں روزانہ اس نوعیت کے کئی سانحات جنم لیتے ہیں۔ کچہریوں میں موجود مقدمات کا ایک بڑا حصہ بھی خانگی تنازعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ طلاق کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ برصغیر میں صدیوں سے جاری ساس بہو کی کشمکش آج بھی ہمارے خاندانی نظام کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف ہم اپنے خاندانی نظام پر فخر کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف تقریباً ہر گھر میں یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ”ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے“۔

ہمارے ہاں شادیوں کے حوالے سے بھی کئی بنیادی مسائل موجود ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر والدین بچوں کی پسند اور ان کی اپنی مرضی سے شادی کو معیوب سمجھتے ہیں، حالانکہ نہ مذہب اس کی ممانعت کرتا ہے اور نہ ہی قانون۔ شادی ہر عاقل و بالغ فرد کا ذاتی معاملہ ہے، اور جب دو بالغ افراد ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کریں تو انہیں یہ حق حاصل ہونا چاہیے۔ یقیناً والدین اگر رہنمائی اور تعاون کریں تو یہ ایک مثبت اور خوبصورت عمل ہے، لیکن انہیں رکاوٹ یا جبر کا سبب نہیں بننا چاہیے، اگر والدین بچوں کی پسند کو عزت دینا سیکھ لیں تو بہت سے گھریلو تنازعات پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح شادی سے قبل نوجوانوں کا مالی طور پر خودکفیل ہونا بھی نہایت ضروری ہے، ان کے پاس روزگار، اپنی رہائش اور بنیادی اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت ہونا چاہیے۔ جب بے روزگار یا زیرِ تعلیم بچوں کی جلدی میں شادیاں کر دی جاتی ہیں تو وہ لازماً خاندان پر انحصار کرتے ہیں۔ پھر یہی انحصار رفتہ رفتہ مداخلت، دباؤ اور گھریلو تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ جیسے پاکستان معاشی طور پر آئی ایم ایف کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے، ویسے ہی مالی طور پر کمزور نیا جوڑا خاندان کے بڑوں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اگر والدین ہر شادی شدہ بچے کو علیحدہ رہائش اور آزاد زندگی کا موقع دیں تو رشتوں میں احترام اور ہم آہنگی برقرار رہ سکتی ہے لیکن جب کئی خاندان ایک ہی گھر میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں تو بداعتمادی، مداخلت اور اختلافات جنم لیتے ہیں، کیونکہ ہر انسان اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں گھر کے بڑوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انصاف، برداشت اور احترام کا ماحول قائم رکھیں، جہاں انصاف ہو وہاں امن رہتا ہے، لیکن جہاں ناانصافی ہو وہاں تعلقات زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتے۔

ہمارے معاشرے میں عزت، غیرت اور وقار کے نام پر بھی کئی غلط تصورات رائج ہیں، اگر کوئی عورت غلطی کرتی ہے تو اس کی جواب دہ وہ خود ہے، مردوں کی عزت کو خواتین کے اعمال کے ساتھ جوڑ دینا درست رویہ نہیں۔ اسلام کے مطابق ہر انسان، خواہ مرد ہو یا عورت، اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور ہر ایک نے اپنے اعمال کا حساب خود دینا ہے۔ کسی عورت کے عمل کو پورے خاندان یا گھر کے مردوں کی عزت کا مسئلہ بنا دینا دراصل ایک غیر منصفانہ اور غیر اسلامی سوچ ہے۔ انسان کی اصل عزت اس کے اپنے کردار، اخلاق اور اعمال سے وابستہ ہوتی ہے۔

ہمارے خاندانی نظام کو سنجیدگی سے اصلاح کی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس پر قابو پانا حکومت، سیاسی جماعتوں، مذہبی اداروں اور عوام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نئی نسل کی ایسی تربیت کریں جو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، جہاں برداشت، انصاف، ذمہ داری اور انسانی احترام کو فروغ دیا جائے،جب بھی کسی گھر میں خانگی تنازع جنم لیتا دکھائی دے تو خاندان کے بزرگوں، رشتہ داروں اور محلے کے ذمہ دار افراد کو آگے بڑھ کر مثبت کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ مسائل نہ کسی ایک فرد کی استطاعت میں حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی صرف حکومت کے ذریعے۔ ہمیں اجتماعی شعور، باہمی احترام اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی اپنے معاشرے کو ان بڑھتے ہوئے خانگی اور سماجی مسائل سے نکالنا ہوگا۔

بشکریہ: روزنامہ پاکستان


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے