قربانی کے جانوروں میں وائرل امراض کا پھیلاؤ، خریداروں کے لیے اہم طبی ہدایات

شیئر کریں

عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں مویشی منڈیوں میں خریداروں کا رش بڑھ چکا ہے اور لوگ اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کے جانور خریدنے میں مصروف عمل ہیں۔

اس موقع پر ماہرینِ حیوانیات نے جانوروں کی صحت اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔

ویٹرنری ماہرین کا کہنا ہے کہ جانور خریدتے وقت ان کی چستی اور متحرک رویے پر گہری نظر رکھیں۔ سست اور کمزور جانوروں سے گریز کریں، کیونکہ منہ، ناک یا آنکھوں سے رطوبت کا اخراج سنگین بیماریوں کی علامت ہو سکتا ہے۔ ایسے جانور بیماری کی منتقلی کا باعث بن سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق منہ اور کھر کی بیماری ایک متعدی مرض ہے جو دو کھروں والے جانوروں میں تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا جانور کے منہ میں چھالے اور کھروں میں زخم بن جاتے ہیں، جس سے انہیں چلنے پھرنے اور خوراک کھانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لمپی اسکن ڈیزیز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بیماری جانوروں کی جلد پر گلٹیوں اور زخموں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ چونکہ مکھیاں اور مچھر اس مرض کے پھیلاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا جانوروں کے اردگرد صفائی کو یقینی بنائیں اور جراثیم کش ادویات کا اسپرے کریں۔

ویٹرنری ڈاکٹرز نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ جانوروں کو سخت دھوپ میں کھڑا کرنے سے گریز کریں۔ انہیں صاف ستھرا پانی اور متوازن چارہ فراہم کریں، کیونکہ باسی خوراک جانور کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ غیر ضروری طور پر ہجوم میں لے جانے سے بھی بیماریوں کے منتقل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر جانور میں بخار، رال بہنے یا جلد پر گلٹیوں جیسی علامات نظر آئیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ متاثرہ جانور کو فوراً دیگر مویشیوں سے الگ کر دیں تاکہ بیماری کا پھیلاؤ روکا جا سکے اور بروقت تشخیص کے ذریعے قیمتی جانوروں کی زندگی بچائی جا سکے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے