ناٹنگھم: یونیورسٹی آف ناٹنگھم اور لیڈن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے ماہرین نے اپنی مشترکہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ جسم کو ٹھنڈے ماحول میں رکھنے سے وزن تیزی سے کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو مٹاپے کے شکار افراد کے لیے ایک خوشگوار پیشرفت ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق تحقیقی عمل کے دوران ماہرین نے مٹاپے کا شکار 47 افراد کا مشاہدہ کیا جنہیں آئس ویسٹ پہنائی گئی تھی۔ نتائج سے واضح ہوا کہ ٹھنڈک کے اثرات سے ان افراد نے عام روٹین کے مقابلے میں زیادہ تیزی کے ساتھ اپنے اضافی وزن کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
سائنس دانوں نے وضاحت کی کہ جب انسانی جسم کو روزانہ کی بنیاد پر ٹھنڈک کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو جسم میں موجود براؤن فیٹ نامی چربی فعال ہو جاتی ہے۔
یہ چربی کیلوریز کو جلا کر جسم میں حرارت پیدا کرنے کا قدرتی اور انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ڈاکٹر ماریئٹے بون نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کی ابتدائی اور اہم تحقیقات میں سے ایک ہے جس میں طویل عرصے تک ٹھنڈ کے اثرات کا زائد وزن اور مٹاپے کے شکار افراد پر جائزہ لیا گیا ہے۔ اس عمل سے جسمانی چربی پگھلنے کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹھنڈا ماحول جسم کو براؤن فیٹ کو فعال کرنے پر مجبور کرتا ہے جبکہ انسانی پٹھے بھی حرارت پیدا کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں۔
خاص طور پر سردی سے کپکپاہٹ کے ذریعے جسم اپنا اندرونی درجہ حرارت برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور توانائی خرچ ہوتی ہے۔
یہ طبی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ماحول کا درجہ حرارت کم رکھنے سے انسانی میٹابولزم پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ماہرین کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ اس طریقے کو محفوظ اور موثر طریقے سے اپنانا مٹاپے سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک سستا اور آسان متبادل ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔




