2026 فیفا ورلڈ کپ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے ایران کی قومی فٹبال ٹیم ترکیہ پہنچ گئی ہے، جہاں کھلاڑی تربیتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ امریکا روانگی کے لیے ضروری سفری دستاویزات اور ویزا مراحل بھی مکمل کریں گے۔ ایرانی ٹیم کی اس مصروف شیڈول نے کھیلوں کے حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کرلی ہے کیونکہ ورلڈ کپ سے قبل سیاسی اور سفارتی معاملات بھی نمایاں اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق قومی ٹیم ترکیہ کے شہر انطالیہ میں خصوصی تربیتی کیمپ قائم کرے گی، جہاں کھلاڑیوں کی جسمانی اور فنی تیاریوں پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔ اس دوران ایران کی ٹیم نے دو دوستانہ مقابلے کھیلنے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی ہے تاکہ عالمی کپ سے قبل کھلاڑیوں کو بھرپور ردھم اور میچ پریکٹس فراہم کی جاسکے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی دستہ 22 مقامی کھلاڑیوں اور کوچنگ عملے پر مشتمل ہے۔ قومی ٹیم کے سربراہ امیر قلعہ نوی نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ میں قیام کے دوران تمام کھلاڑی امریکی ویزا کے لیے اپنی درخواستیں جمع کروائیں گے تاکہ ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ باقی نہ رہے۔
ایران کی عالمی کپ مہم ایک ایسے وقت میں آگے بڑھ رہی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث ایران کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی تھی کہ اس کے میچز امریکا کے بجائے میکسیکو میں منتقل کیے جائیں، تاہم عالمی فٹبال تنظیم نے ٹورنامنٹ کے طے شدہ شیڈول میں تبدیلی سے صاف انکار کردیا۔
گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی ٹیم کی ممکنہ شرکت سے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے بھی واضح کیا کہ معاملہ کھلاڑیوں سے زیادہ بعض آفیشلز کے ممکنہ سیاسی روابط سے متعلق ہوسکتا ہے۔
ادھر فیفا حکام اور ایرانی فٹبال فیڈریشن کے درمیان حالیہ رابطوں اور ملاقاتوں کے بعد ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت کے امکانات مزید مستحکم تصور کیے جا رہے ہیں۔ عالمی کپ کے ابتدائی مرحلے میں ایران کو نیوزی لینڈ، بیلجیئم اور مصر کے خلاف میدان میں اترنا ہوگا، جہاں ٹیم کی کارکردگی پر دنیا بھر کے شائقین کی نظریں مرکوز رہیں گی۔




