نیا طریقہ واردات – پروفیسر تنویر صادق

شیئر کریں

میں اور میرا ایک دوست کہیں جا رہے تھے۔ دوران ڈرائیونگ ہم آپس میں بحث بھی کر رہے تھے اور موضوع تھا کہ ہمارے تفتیشی اداروں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ کو کوئی ناجائز کام کرنا ہے، آپ پولیس یا متعلقہ ادارے سے ایڈوانس طے کر لیں کہ آپ ان کو کیا حصہ دیں گے۔ آپ طے شدہ حصہ دیتے رہیں۔ آپ کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی اور آپ کا کام لگاتار بڑے سکون سے چلتا رہے گا۔ بلکہ یہ ادارے آپ کو تحفظ بھی فراہم کریں گے۔ اوپر سے کبھی کوئی سخت احکام بھی آ جائیں تو آپ کو خبر دار کرنے کا بندوبست بھی وہ کریں گے کہ آپ وقتی طور پر کچھ محتاط ہو جائیں۔ اب تو یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کوئی مشکل ہو رشوت دے کر نجات پائیں۔ سائبر کرائم کی حد سے بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تو کسی کا کوئی کنٹرول نہیں کہ جنہیں کنٹرول کرنا ہے وہ سارے کے سارے بس گل محمد ہی ہیں کوئی ایکشن لیتے ہی نہیں انہیں سارے منظم گروہوں کا پتہ ہے اور ان کی سب سے اچھی راہ و رسم ہے کیوں تعلقات خراب کریں۔ لوگوں کے ساتھ روز فراڈ ہوتا ہے۔ لوگ روز لٹتے ہیں، لیکن کوئی نہیں پوچھتا۔ کوئی داد فریاد کام نہیں آتی۔ جو لٹ گیا سو لٹ گیا۔ ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ موبائل کی گھنٹی بجی۔ میں نے موبائل اٹھایا تو آواز آئی، تنویر صاحب بول رہے ہیں۔ جی ہاں، میں نے جواب دیا۔ SHO صاحب بات کریں گے۔ بات کرائیں، پھر یوں لگا جیسے پولیس کے کنٹرول روم میں کچھ گفتگو ہو رہی ہو۔ کنٹرول روم کی ہر طرح کی آواز سنائی دیتی رہی۔ پھر ایک صاحب بولے، تنویر صاحب، کیا حال ہے، میں SHO میاں اکرم بول رہا ہوں۔ آپ نے پہچانا نہیں ہو گا۔ آپ سے کووڈ کے دوران ملاقات ہوئی تھی۔ آج ایک کام تھا، سوچا آپ کو تنگ کروں۔ ایک بچی سخت بیمار ہے۔ علاج کے لئے بڑی رقم درکار ہے۔ آج دو بجے ڈاکٹر نے پیسوں کے لئے بلایا ہے۔ آپ جتنے آسانی سے کر سکیں کر دیں۔ آپ کو تو محسوس بھی نہیں ہو گا۔ اس کا بھلا ہو جائے گا۔بس ذرا دلیر ہو کر کچھ مہربانی کر دیں۔ اس وقت دوپہر کا سوا بجا تھایعنی پون گھنٹے میں مجھے ایک معقول رقم اسے منتقل کرنی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ جاز کیش کا نمبر بھیج رہا ہے۔ خیال رہے، کوتاہی نہیں کرنی۔ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو یاد کریں۔یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا۔

چند منٹ میں جاز کیش نمبر میرے پاس آ گیا اور پھر اس کا فون آیا کہ جناب نمبر بھیج دیا ہے ۔ جلدی کریں۔ میں نے پوچھا کہ بھائی کہاں SHO ہو، کچھ بتایا نہیں۔ بیمار کون ہے، آپ کا اس سے تعلق۔ ہنس کر کہنے لگا۔ میں جلدی میں ہوں دو بجے ڈاکٹر کے پاس پہنچنا ہے۔ آپ پیسے بھیج دیں۔ میں دو تین دن میں آپ کے پاس آئوں گا۔ تفصیل سے بات ہو گی۔ معذرت چاہتا ہوں، جلدی ہے لمبی بات اس وقت نہیں چھیڑ سکتا۔ میں نے کہا کہ اتنی جلدی میرے لئے بھی ممکن نہیں، میں ریٹائر آدمی ہوں ، بچوں سے بات کرنا ہو گی۔ دیکھو، وہ کیا کہتے ہیں۔ دیکھیں جیسے بھی ہو جلدی کریں۔ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ میرا ساتھ بیٹھا میرا دوست ہنسنے لگا کہ وہ بڑا فنکار تھا مگر تم بھی قابو نہیں آئے اور بڑی خوبصورتی سے اسے ٹرخایا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ سائبر کرائم سے وابستہ لوگ ہیں اور یہ روز اپنا طریقہ واردات بدل کر لوگوں کو لوٹتے ہیں۔اس کی گفتگو کے آغاز ہی میں مجھے پتہ چل گیا تھا۔ اس لئے محتاط تھا۔ ویسے بھی میرے پاس اتنے فالتو پیسے نہیں کہ کسی کی ایک فون کال پر لٹا دوں۔ ساڑھے تین بجے ایک خاتون کا فون آیا کہ تنویر صاحب، میں آغا خان اسپتال سے بول رہی ہوں آپ نے ہماری ایک مریضہ کی مدد کے لئے پیسے بھیجنے تھے۔ وہ ابھی تک نہیں ملے۔ علاج کے لئے فوراً ادائیگی ضروری ہے۔ آپ کب تک بھیج رہے ہیں۔ میں نے کہا۔ بی بی آپ کو کس نے کہا کہ میں بھیج رہا ہوں۔ میں تو نہیں بھیج رہا۔ جس نے آپ کو کہا ہے اسی سے رابطہ کریں۔ اس نے بغیر کچھ کہے فون بند کر دیا۔ یہ سائبر کرائم والوں کا لوگوں سے پیسے بٹورنے کا نیا جال ہے۔ ہر مہینے میں وہ چار پانچ دفعہ ایسا ہی کوئی جال پھینکتے ہیں کہ شاید بندہ کسی نہ کسی جال میں پھنس جائے اور لوگ پھنس بھی جاتے ہیں۔

کرائم کرنے والوں کا یہ نفع بخش کاروبار چلتا ہی رہتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص لمبے عرصے تک بغیر تفتیشی اداروں کے تعاون سے یہ کام جاری رکھ سکے۔ تفتیشی ادارے اپنا حق وصول کئے بغیر لوگوں کو اس قدر چھوٹ کبھی بھی دے نہیں سکتے۔

حال ہی میں کراچی میں پنکی نامی عورت کی گرفتاری نے ہمارے اداروں کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ لیکن شاید پوری حقیقت ابھی بے نقاب نہیں ہوئی ہے اور شاید بے نقاب ہی نہ ہو۔ چند چھوٹے ملازمین کو ذمہ دار قرار دے کر معطل کیا گیا ہے۔ کسی پولیس کے سپاہی یا چھوٹے تھانیدار کی جرات نہیں کہ کسی ملزم کو بغیر ہتھکڑی بڑے عزت اور احترام سے عدالت میں پیش کرے۔ اس بہت اہم پروٹوکول کے پیچھے کوئی ایس پی یا اس سے بھی بڑا افسر ہو گا جس کی اشیر باد سے یہ سب کیا جا رہا ہو گا۔ اس افسر کو کوئی چھوئے گا بھی نہیں اور وہ افسر ہی اس شور کی گرد بیٹھنے کے بعد سب کی جان بچائے گا۔ چھ ماہ بعد آپ چیک کر لیں ،سارے معطل لوگ بڑی عزت اور احترام سے بحال ہو کر بہتر پوسٹنگ کے ساتھ کام کر رہے ہونگے۔ پنکی کے گھر سے جو بیکنگ پائوڈر کے ڈبے ملے ہیں جن میں اس وقت پولیس کے مطابق نشہ آور مواد ہے۔ وہ کوئی لیباٹری دوبارہ بیکنگ پائوڈر ہی ثابت کر دے گی۔لیبارٹری کا کہا کیسے غلط ہو سکتا ہے ۔ اسے صحیح مانا جائے گا اور ملزمہ باعزت بری ہو جائے گی۔ یہ ہمیشہ ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے