گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈا تربوز عام طور پر لوگوں کی پسندیدہ اور مقبول ترین غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں اس پھل کے استعمال سے منسلک بعض واقعات کے بعد اس کی غذائی حفاظت اور درست طریقۂ استعمال پر نئے سوالات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ تربوز اپنی اصل شکل میں ایک محفوظ اور فائدہ مند پھل ہے، لیکن اصل احتیاط اس کے کاٹنے کے بعد کے مرحلے میں ضروری ہو جاتی ہے، تربوز میں پانی کی وافر مقدار اور قدرتی مٹھاس موجود ہوتی ہے، جو گرمی اور نمی کے ماحول میں بیکٹیریا کی افزائش کے لیے موزوں حالات پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کٹا ہوا تربوز زیادہ دیر تک کھلے ماحول میں رکھا جائے تو یہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ تربوز کو استعمال کرنے سے پہلے اس کی بیرونی سطح کو اچھی طرح دھونا انتہائی ضروری ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی گرد، جراثیم یا آلودگی اندر منتقل نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ کاٹنے کے فوراً بعد اسے محفوظ طریقے سے فریج میں رکھنا چاہیے، اور ترجیحاً ایئر ٹائٹ ڈبے میں محفوظ کرنا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق کھلے ماحول میں رکھا گیا کٹا ہوا تربوز خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے جسم میں جراثیم کے خلاف مزاحمت نسبتاً کم ہوتی ہے۔
ماہرین نے محفوظ استعمال کے لیے چند اہم ہدایات بھی جاری کی ہیں جن میں تازہ اور بغیر دراڑ والا تربوز خریدنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تربوز کو کاٹنے سے پہلے ہاتھوں اور استعمال ہونے والے چاقو کو اچھی طرح صاف کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ پہلے سے کٹے ہوئے اور طویل وقت تک باہر رکھے گئے تربوز کے استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، جبکہ کٹے ہوئے ٹکڑوں کو فوراً ڈھانپ کر فریج میں محفوظ رکھنے پر زور دیا گیا ہے، مناسب صفائی اور درست ذخیرہ کرنے کے اصولوں پر عمل کر کے تربوز کو گرمیوں میں نہ صرف محفوظ بلکہ صحت بخش انداز میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔




