برطانوی وزیراعظم کا پارٹی میں بغاوت کے باجود استعفیٰ دینے سے انکار

شیئر کریں

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی جماعت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات، سیاسی دباؤ اور استعفے کے مطالبات کے باوجود واضح اعلان کیا ہے کہ وہ عہدہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔

لندن میں کابینہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے پارٹی کی حالیہ انتخابی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کی، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ اس وقت حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں نہ صرف سیاسی نظام بلکہ ملکی معیشت اور عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی عوام حکومت سے سیاسی لڑائی نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی کی توقع رکھتے ہیں۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو دوٹوک پیغام دیا کہ وہ اپنی توجہ حکومتی امور اور عوامی مسائل کے حل پر مرکوز رکھیں، کیونکہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی بے یقینی نے حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ لیبر پارٹی کے اندر قیادت کو چیلنج کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، لیکن اب تک اس عمل کا باضابطہ آغاز نہیں ہوا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹارمر کا یہ مؤقف دراصل پارٹی کے اندر موجود ناراض دھڑوں کے لیے ایک واضح انتباہ ہے، کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں بدترین کارکردگی کے بعد متعدد ارکانِ پارلیمنٹ اور سینیئر رہنما ان سے قیادت چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق لیبر پارٹی کو حالیہ مقامی کونسل اور علاقائی انتخابات میں شدید دھچکا پہنچا، جہاں جماعت کئی اہم کونسلز کا کنٹرول برقرار رکھنے میں ناکام رہی، جبکہ ویلز میں بھی اسے غیر معمولی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی تناظر میں وزیراعظم کی سیاسی حیثیت اور مستقبل کے حوالے سے سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

برطانوی میڈیا نے کابینہ کے حالیہ اجلاس کو اسٹارمر کے سیاسی مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیا ہے۔ منگل کے روز ایک جونیئر وزیر نے استعفیٰ دیا جبکہ چند وزارتی معاونین بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو چکے ہیں، جس سے حکومت کے اندرونی بحران کی شدت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق لیبر پارٹی کے تقریباً 80 ارکانِ پارلیمنٹ اور کابینہ کے کئی اہم وزرا وزیراعظم سے اقتدار چھوڑنے کے لیے واضح وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں تاکہ جماعت میں نئی قیادت کے انتخاب کا عمل شروع کیا جا سکے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے بعض سینیئر شخصیات نے انہیں باوقار انداز میں رخصتی کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

ان شخصیات میں وزیرِ داخلہ شبانہ محمود اور وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر سمیت کئی نمایاں وزرا کے نام لیے جا رہے ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے واضح فیصلہ کریں۔

ادھر وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک تقریر میں وعدہ کیا تھا کہ ان کی حکومت برطانیہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیز اور جرات مندانہ فیصلے کرے گی، تاہم اس خطاب کے فوراً بعد پارٹی کے مزید رہنماؤں نے ان سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔

کیئر اسٹارمر نے اپنے قریبی ساتھیوں کو خبردار کیا کہ اگر محض دو برس بعد دوبارہ قیادت کی تبدیلی کی کوشش کی گئی تو عوام لیبر پارٹی کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام سے صرف جماعت ہی نہیں بلکہ پورا ملک متاثر ہوگا۔

واضح رہے کہ کیئر اسٹارمر گزشتہ 5 برسوں میں برطانیہ کے چوتھے وزیراعظم ہیں، جبکہ یہ سیاسی بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شاہ چارلس کو پارلیمنٹ میں حکومت کا آئندہ قانون سازی کا ایجنڈا پیش کرنا ہے۔

لیبر پارٹی کے داخلی قواعد کے مطابق کسی بھی نئے امیدوار کو قیادت کے لیے چیلنج پیش کرنے کی صورت میں ارکانِ پارلیمنٹ کی کم از کم 20 فیصد حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ نچلی سطح کی جماعتی تنظیموں اور ٹریڈ یونینز کی تائید بھی لازمی سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق لیبر پارٹی کی 125 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی برسرِ اقتدار وزیراعظم کو اس انداز میں دباؤ کا سامنا ہے، اسی لیے صورتحال غیر معمولی تصور کی جا رہی ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگر کیئر اسٹارمر عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ممکنہ جانشینوں میں وزیرِ صحت ویس اسٹریٹنگ، سابق نائب وزیراعظم انجیلا رینر اور مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم کے نام نمایاں طور پر زیرِ گردش ہیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے