اگر مسلمانوں پر ظلم ہوا تو کسی ہندو کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا: وزیراعلیٰ تھلاپتی وجے

شیئر کریں

تامل ناڈو: نومنتخب وزیرِ اعلیٰ تھلاپتی وجے نے مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے سخت مؤقف اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر کسی بھی شہری پر ظلم، تشدد یا امتیازی سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مسلمانوں پر حملوں یا تشدد میں ملوث کسی بھی شخص کو، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، معاف نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات تھلاپتی وجے نے منگل کو جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے اصل مسئلہ مجرم کی شناخت نہیں بلکہ جرم ہے۔ سماجی امن کا قیام، شہری حقوق کا تحفظ اور قانون کی حکمرانی ان کی حکومت کی بنیادی ترجیحات ہیں۔

51 سالہ اداکار سے سیاست دان بننے والے تھلاپتی وجے نے اتوار کے روز تامل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ ان کی جماعت تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کے اتحاد نے اس سال کے انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کرتے ہوئے طویل عرصے سے قائم دراوڑا منیترا کژگم (ڈی ایم کے) اور آل انڈیا انا دراوڑا منیترا کژگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کی سیاسی بالادستی ختم کر دی۔
وجے کی اتحادی حکومت، جس میں کانگریس، بائیں بازو کی جماعتیں اور مسلم لیگ بھی شامل ہیں، نے اقتدار سنبھالتے ہی سماجی اصلاحات کے تحت کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں ریاست کی 4 ہزار 765 سرکاری شراب کی دکانوں میں سے 717 کو بند کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔

سرکاری معلومات کے مطابق یہ دکانیں عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور بس اڈوں کے قریب واقع تھیں، اس لیے عوامی مفاد میں انہیں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تامل ناڈو اسٹیٹ مارکیٹنگ کارپوریشن (ٹاسماک) کے تحت چلنے والی ان شراب کی دکانوں کی بندش نے ریاست بھر میں وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔

شراب کی دکانیں بند ہونے سے ممکنہ مالی خسارے کے باوجود تھلاپتی وجے اپنے عوامی مؤقف پر قائم ہیں۔ ان کی حکومت پہلے ہی مفت بجلی کی فراہمی، خواتین کے لیے خصوصی سکیورٹی فورس کے قیام اور انسدادِ منشیات یونٹ بنانے جیسے اقدامات شروع کر چکی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد وجے کی جرات مندانہ پالیسی اور سخت مؤقف تامل ناڈو کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے