برطانیہ میں گوگل کے خلاف اربوں ڈالر مالیت کے بڑے مقدمے کا آغاز

شیئر کریں

برطانیہ میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی گوگل کو ایک مرتبہ پھر سخت قانونی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں اس پر آن لائن اشتہارات کے شعبے میں اپنی غالب پوزیشن کو مبینہ طور پر غیر منصفانہ انداز میں استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں دائر کیے گئے تازہ مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ گوگل نے ڈیجیٹل اشتہاری مارکیٹ میں اپنی مضبوط گرفت کو بنیاد بناتے ہوئے مبینہ طور پر اپنے ہی اشتہاری نظام کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں دیگر مسابقتی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع محدود ہوئے۔

قانونی فرم کے پی لا کی جانب سے دائر اس اجتماعی مقدمے میں گوگل سے تقریباً 3 ارب پاؤنڈ یعنی قریباً 4 ارب امریکی ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نے خاص طور پر ویب سائٹس پر دکھائے جانے والے ڈسپلے اور بینر اشتہارات کے شعبے میں اپنی سروسز کو فوقیت دے کر مارکیٹ کے توازن کو متاثر کیا۔

یہ قانونی کارروائی ایک اجتماعی دعویٰ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کے تحت اکتوبر 2015 سے لے کر اب تک برطانیہ میں گوگل کی اشتہاری خدمات استعمال کرنے والے ادارے خودکار طور پر اس مقدمے کا حصہ تصور کیے جا رہے ہیں، جب تک کہ وہ واضح طور پر خود کو اس سے الگ نہ کر لیں۔ یہ معاملہ عالمی سطح پر جاری ان تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کا حصہ بھی ہے جو گوگل کے اشتہاری کاروباری ماڈل کے گرد سوالات اٹھا رہی ہیں، خصوصاً امریکا اور یورپی یونین میں۔

دوسری جانب گوگل نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈیجیٹل اشتہاری مارکیٹ میں صارفین کے پاس متعدد متبادل موجود ہیں، اور مشتہرین گوگل کے ٹولز کو اس کی آسانی، مؤثر نتائج اور نسبتاً کم لاگت کے باعث ترجیح دیتے ہیں۔ کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ اس نوعیت کا دعویٰ ابھی تک باضابطہ طور پر اسے موصول نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی برطانیہ اور یورپی سطح پر گوگل کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات سامنے آئے تھے، جبکہ یورپی یونین کی جانب سے کمپنی پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے، جن کے خلاف گوگل نے اپیل کا اعلان کیا تھا۔

تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود ماہرین اس حقیقت کی جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ گوگل اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے عالمی سطح پر کاروبار اور اشتہارات کے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ آج چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث اصل بحث صرف مارکیٹ طاقت تک محدود نہیں رہی بلکہ اس امر پر مرکوز ہے کہ ٹیکنالوجی کی اجارہ داری اور صارفین کے حقوق کے درمیان متوازن نظام کیسے قائم کیا جائے۔

 


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے