فرض کریں کہ آج یہ دنیا تاریخ کے اُس دور میں واپس چلی جائے جب غلامی کو قانونی حیثیت حاصل تھی اور یہ بھی فرض کر لیں کہ اُس وقت کے لوگوں کے دماغ میں مزاحمت، جدوجہد اور بغاوت کا تصور پیدا نہیں ہو سکتا تھا، تو ایسی صورت میں کیا ہوتا؟ کیا انسان کبھی غلامی سے نجات پا سکتا؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ کیونکہ جب کسی نے طاقتور کے سامنے مزاحمت ہی نہیں کرنی تھی تو غلامی کیسے ختم ہوتی؟ غلامی سے نجات تو اُسی صورت میں ممکن ہوتی اگر کوئی سرپھرا اپنے جیسے باغیوں کو ساتھ ملا کر نتیجے کی پروا کیے بغیر اپنے مالکوں سے بھِڑ جاتا۔
پسپائی کی تلقین کرنے والے ہمارے یہ دانشور دراصل ’افادیت پسندی‘ (Utilitarianism) کے فلسفے کے اسیر ہیں، جن کے ہاتھ میں فقط مادی نفع و نقصان کا پیمانہ ہے، وہ مظلوم کے خون کے ہر قطرے کو کیلکولیٹر پر تولتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ”اِس جان کے ضیاع سے ہمیں کیا مادی یا جغرافیائی فائدہ حاصل ہوا؟“ مزاحمت کے موضوع پر جو کتاب بائبل کا درجہ رکھتی ہے وہ فرانز فینن کی ”The Wretched of the Earth“ (افتادگانِ خاک) ہے۔ فینن اس میں بتاتا ہے کہ ظالم کے خلاف مزاحمت صرف زمین کا ٹکڑا چھڑانے کی جنگ نہیں ہوتی، بلکہ یہ مظلوم کی نفسیاتی آزادی کا واحد ذریعہ ہوتی ہے۔ جب ایک نہتا فلسطینی، کشمیری یا کوئی بھی مظلوم نوجوان جدید ترین بکتر بند گاڑی کے سامنے ایک چھوٹا سا پتھر لے کر کھڑا ہوتا ہے، تو وہ اس پتھر سے ٹینک کو تباہ کرنے کی بے وقوفانہ امید نہیں پال رہا ہوتا بلکہ وہ غاصب کے مسلط کردہ خوف کے بُت کو توڑ رہا ہوتا ہے۔ غاصب اور استعماری طاقتیں کبھی بھی مظلوم قوم کو یہ مہلت نہیں دیتیں کہ وہ آرام سے بیٹھیں، لیبارٹریاں بنائیں، یونیورسٹیاں قائم کریں، معیشت مضبوط کریں اور پرامن طریقے سے طاقتور ہو جائیں۔ ظالم کا بنیادی ہدف ہی مظلوم کی شناخت، اس کے وسائل، اس کی تعلیم اور آنے والی نسلوں کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔ جنہیں یہ بات مبالغہ آرائی لگ رہی وہ اسرائیلی فوج کی بچوں کے اسکولوں پر بمباری دیکھ لیں اور اسرائیلیوں کو اِس جارحیت کا دفاع کرتے ہوئے سُن لیں، طبیعت روشن ہو جائے گی۔ جب آپ کی زمین غصب کی جا رہی ہو، آپ کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہوں اور آپ کی بستیوں پر فاسفورس بم گرائے جا رہے ہوں، تو وہاں یہ دانشورانہ مشورہ دینا کہ ”ہتھیار پھینک دو اور پہلے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرو“ ایک انتہائی سفاکانہ اور بے حس بات ہے۔ جب گھر میں ڈاکو گھس آئیں اور جمع پونجی لوٹنے کے ساتھ عورتوں کو ریپ بھی کرنا شروع کر دیں تو اُس وقت گھر والوں کو یہ مشورہ نہیں دیا جاتا کہ وہ لڑنے کے بجائے لائبریری میں کتابیں پڑھیں تاکہ مستقبل میں اچھے پولیس افسر بن سکیں۔ اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اگر مظلوم کمزوری کے عذر تلے ہتھیار ڈال دے تو غاصب اسے معاف نہیں کرتا، بلکہ اُلٹا اسے مکمل طور پر ہڑپ کر جاتا ہے۔ مقامی امریکیوں (Red Indians) اور آسٹریلیا کے مقامی باشندوں (Aborigines) کے ساتھ یہی ہوا۔
یہاں دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے، ایک، کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ مسلمانوں کو سائنس، ٹیکنالوجی اور فلسفے کی تعلیم حاصل نہیں کرنی چاہیے اور سر پر صافہ باندھ کر اور تلوار سونت کر ہمہ وقت ظلم کے خلاف جہاد ہی کرنا چاہیے۔ نہیں۔ مسلم دنیا کو وہی حکمت عملی اپنانی چاہیے جو صلح حدیبیہ کے موقع پر اپنائی گئی تھی اور وہی کرنا چاہیے جس کا مشورہ سر سید احمد خان نے دیا تھا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی غاصب طاقت کے نشے میں دھت ہو کر فلسطینی بچوں پر ٹینک چڑھا دے تو ہم الٹا اُن بچوں کو ہی موردالزام ٹھہرانا شروع کر دیں کہ تم نے ٹینک پر پتھراؤ کیوں کیا، تمہیں نہیں پتا تھا کہ انکل نیتن یاہو برا مان جاتے ہیں! دوسرا، کچھ لوگ قانونی مسلح جدوجہد کو طالبان کی دہشت گردی سے جوڑ کر خلط مبحث پیدا کر رہے ہیں، جبکہ اِن دونوں کا آپس میں دور دور تک کوئی تعلق نہیں، یہ موازنہ وہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کی غرض سے کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی کو امید نہیں تھی کہ ایران دو چار دن سے زیادہ امریکہ کے سامنے ٹِک سکے گا، ہم تو اِس امید پہ تھے کہ ہمیشہ کی طرح مسلم دنیا کے لتّے لیں گے اور کہیں گے کہ ’دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ طاقتور سے پنگا نہ لو، اب آرام ہے! ‘ پس ثابت ہوا کہ سارا قصور مسلم دنیا کا ہے، نتین یاہو سے لے کر مودی تک، سب دودھ کے دھلے ہوئے ہیں!
بشکریہ: ہم سب

