واشنگٹن: صحت مند غذا کے طور پر سمجھی جانے والی پھلوں اور سبزیوں کی زیادہ مقدار کے استعمال سے متعلق ایک نئی تحقیق نے تشویشناک سوالات اٹھا دیے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ان پر موجود کیڑے مار ادویات کی باقیات پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے سے جڑی ہو سکتی ہیں۔
بین الاقوامی سائنسی جریدوں اور سائنس ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پچاس سال سے کم عمر ایسے افراد جو تمباکو نوشی نہیں کرتے مگر نسبتاً زیادہ پھل، سبزیاں اور صحت بخش غذا استعمال کرتے ہیں، ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بعض صورتوں میں زیادہ دیکھا گیا۔
تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر جورج نیوا نے کہا کہ نتائج حیران کن ہیں اور یہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ آیا صحت مند سمجھی جانے والی خوراک میں موجود بعض کیمیائی اجزاء طویل مدت میں انسانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ان کے مطابق غیر نامیاتی یعنی نان آرگینک پھلوں، سبزیوں اور اناج میں کیڑے مار ادویات کی باقیات زیادہ پائی جا سکتی ہیں اور یہی ممکنہ طور پر وہ عنصر ہو سکتا ہے جو نوجوان اور غیر تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے سے جڑا ہو۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں اور مزید وسیع تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس تعلق کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے،اس تحقیق نے غذائی عادات اور زرعی طریقوں کے ممکنہ اثرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق پھل اور سبزیاں انسانی جسم کے لیے نہایت ضروری ہیں، کیونکہ یہ وٹامنز، فائبر اور قدرتی غذائی اجزاء فراہم کرتی ہیں لیکن ان کی پیداوار میں استعمال ہونے والے کیمیائی اسپرے اور کیڑے مار ادویات کے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تحقیق کے مطابق مستقبل میں اس مسئلے کے حل کے لیے آرگینک زراعت، بہتر صفائی کے طریقے اور خوراک کی جانچ کے سخت معیار اپنانے کی ضرورت بڑھ سکتی ہے تاکہ انسانی صحت کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔




