امریکا نے ایران سے منسلک 344 ملین ڈالر کے کرپٹو اثاثے منجمد کر دیے

شیئر کریں

واشنگٹن: امریکی حکومت نے ایران سے مبینہ روابط رکھنے والے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 344 ملین ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کی جانب سے فنڈز کی منتقلی کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس پیش رفت پر اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن ایران کے مالیاتی ذرائع تک رسائی کو منظم طریقے سے محدود کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ کارروائی ایران کی فنڈز پیدا کرنے اور انہیں عالمی سطح پر منتقل کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرے گی۔

امریکی محکمہ خزانہ نے صرف کرپٹو اثاثوں تک اکتفا نہیں کیا بلکہ ایران کی تیل برآمدات میں سہولت فراہم کرنے والی چینی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ان کمپنیوں میں آئل ریفائنریز، شپنگ فرمز اور متعدد آئل ٹینکرز شامل ہیں جو تہران کی غیر قانونی تجارت میں مدد کر رہے تھے۔

یہ نئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے سے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ایران کے ان نیٹ ورکس کو بے اثر کرنا ہے جو پابندیوں کے باوجود تیل کی فروخت اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے اپنی معیشت کو سہارا دے رہے تھے۔ واشنگٹن اپنی سخت پالیسیوں کے ذریعے تہران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنا چاہتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں اٹھائے گئے ہیں جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو رہی ہیں۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ تنازعات کے خاتمے اور امن مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ خطے میں جاری جنگی صورتحال کا کوئی پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے