تاجر برادری، تبدیلی کے سفر کا آغاز کرے – نسیم شاہد

شیئر کریں

رات گیارہ بجے کا وقت تھا، جب مجھے ایک دوست کا فون آیا،خیر سے ایک بڑے اسٹور کے مالک ہیں انہوں نے بتایا اسسٹنٹ کمشنر نے اسٹور سیل کر دیا ہے۔ صبح والے گاہک بڑے پریشان ہوں گے، کمشنر صاحب کو کہہ کے کھلوا دیں۔ میں نے کہا اللہ کے بندے یہ کیسے ممکن ہے۔ ڈی سیل کا تو ایک طریقہ ہے اور میری اطلاع کے مطابق جس جگہ تمہارا اسٹور ہے، اس علاقے میں کل 32دکانیں سیل کی گئی ہیں، اب ایک کیسے کھل سکتی ہے۔ خیر اگلے دن وہ کچہری گئے، حلف نامہ جمع کرایا کہ آئندہ ٹھیک آٹھ بجے اسٹور بند کر دیں گے اور جرمانہ ادا کرکے ڈی سیل کا اجازت نامہ لے آئے۔

آج کل تاجروں میں ہاہا کار مچی ہوئی ہے جبکہ خریداروں میں ایسی کوئی بے چینی نہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو نئے اوقات کار کے مطابق ایڈجسٹ کرلیا ہے بلکہ اکثریت کی رائے تو یہ ہے آٹھ بجے بازار و دکانیں بند کرنے کا فیصلہ بہت اچھا ہے۔ اس سے زندگی میں نظم و ضبط اور سکون آ گیا ہے وگرنہ رات گئے تک خریداری اور پھر اگلے دن صبح اُٹھ کر دفاتر جانا ایک دشوار مرحلہ تھا۔

کیا ہم دنیا سے جدا ہیں۔ ہماری عادتیں ماورائی ہیں۔ بڑے اور ترقی یافتہ ممالک میں شام سورج کے جاتے ہی سب کچھ بند ہوجاتا ہے۔ لوگ اس کے بعد پارکوں اور تفریح گاہوں میں وقت گزارتے ہیں یا گھر بیٹھ کے خود کو خاندان کاحصہ بنا لیتے ہیں۔ ہمارے ایک سینئر پروفیسر دوست ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کہا کرتے ہیں کہ ہمارا تاجر طبقہ وہ مخلوق ہے جو ماں کی دعا لے کر دوپہر کے وقت دکانیں کھولتے ہیں، جب واپسی جاتے ہیں تو ماں اور بیوی بچے سو چکے ہوتے ہیں۔ صبح بچے اسکول چلے جاتے ہیں اور یہ بارہ بجے بیدار ہوکر پھر ماں کی دعا لے کر دکانوں پر آ جاتے ہیں۔ ساری زندگی کے اس دائرے میں ان کا خاندان  اور بچے نظر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ماڈل دنیا میں بہت کم نظر آتا ہے، مگر ہمارے ہاں اس پر کاربند رہنے کی ضد موجود ہے، اس کا دوسرا  اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے توانائی کے شعبے پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ بجلی ہمارے ہاں ویسے ہی ایک جنسِ نایاب ہے۔ زیادہ بجلی درکار ہو تو اس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں یا پھر لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ ایک اندازے کے بعد شام آٹھ بجے کے بعد عام حالات میں پیک ٹائم شروع ہو جاتا ہے اس وقت کھلے بازاروں اورجگمگاتی دکانوں نیز ان میں چلتے ائرکنڈیشنوں کی وجہ سے بجلی کا شارٹ فال بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب اس پر عمل کرلیا جائے تو ایک روٹین بن سکتی ہے۔ لوگ جس طرح آج کل آٹھ بجے سے پہلے خریداری کرلیتے ہیں، تب بھی کریں گے مگر یہ دکاندار حضرات نجانے اس پر کیوں یقین نہیں رکھتے۔ ان کا خیال ہے وقت کم دیا جائے گا تو خریداری بھی کم ہو گی، حالانکہ معاشیات کا اصول یہ ہے کہ جتنی طلب ہوتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔ گاہک کا رویہ لچکدار ہوتا ہے، وہ خود کو وقت کے مطابق ایڈجسٹ کر لیتا ہے۔ باقی رہی دورانیے کی بات تو صبح نو بجے دکانیں کھول کر دورانیے میں اضافہ ہی ہو گا کمی نہیں ہو گی، مگر نہیں صاحب زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق یہ بات تو ماننی ہی  نہیں۔

اب یہ آئے روز کے مناظر ہیں کہ پیرا دکانیں بند کرا رہی ہے اور تاجر مزاحمت کررہے ہیں، پھر جب سہل ہوتی ہے تو ایک جملہ ضرور سننے کو ملتا ہے کہ حکومت ہمیں بھوکا مارنا چاہتی ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ دکانیں آٹھ بجے بند کرنے سے کیا پاکستان سے گاہک دبئی چلے جاتے ہیں۔ وہ تو یہیں ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ضرورت تو پوری کرنی ہی کرنی ہے،آج نہیں کر سکیں گے تو کل کرلیں گے۔ بہت سے تاجر ایسے بھی ہیں جو یہ خواہش کرتے ہیں کاش ہمیشہ کے لئے بازار بند کرنے کا وقت آٹھ بجے کر دیا جائے۔ وہ کہتے ہیں زندگی میں ایک سکون آ گیا ہے۔ یوں لگتا ہے ہم بھی نظم و ضبط کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ چند ایسے جملے ہیں جو کانوں میں تیر کی طرح لگتے، ان میں ایک ایک جملہ ”تاجروں کا معاشی قتل“ والا بھی ہے۔ جتنا اس ملک میں خوشحال طبقہ تاجر حضرات ہیں، اتنا شاید ہی کوئی ہو۔ تاجر ریڑھی والا ہو یا دکان والا۔ اس پر مہنگائی کا اثر اس لئے نہیں ہوتا کہ اس نے مہنگائی کو آگے منتقل  کرنا ہوتا اور اصل مہنگائی اس صارف پر اثر انداز ہوتی ہے جو اس شے کو استعمال کر کے بیٹھ جاتا ہے۔ تاجر ایک طرف مہنگی بجلی کا رونا روتے ہیں اور دوسری طرف دو سو بلب جلا کے کاروبار کرتے ہیں۔ ٹائم مینجمنٹ سے اگر انہیں ہر ماہ بجلی کی مد میں ہزاروں روپے کی بچت ہو سکتی ہے تو وہ اسے آمدنی میں شمار کیوں نہیں کرتے جس وقت کی کمی وہ معاشی قتل کہتے ہیں،اس کی وجہ سے انہیں اچھی خاصی بچت بھی ہوئی ہے۔ چلیں زیادہ نہیں تو کم از کم ایک سال کے لئے یہ پریکٹس تو کرکے دیکھیں، اس کے بعد حکومت بھی سود و زیاں کا اندازہ لگائے اور تاجر طبقہ بھی، اگر یہ راز کھلے کہ نقصان تو کوئی نہیں ہوا البتہ زندگی گزارنے میں ایک سہولت مل گئی ہے تو پھر ہمیں اس نئے طرز زندگی کو اپنا لینا چاہئے اگر دنیا نے سورج کی روشنی سے کاروبار کے آغاز و اختتام کا نظریہ اپنا رکھا ہے تو ہم یوں فطرت کے برعکس کام کرنے کی ضد کررہے ہیں۔

سماجی زندگی کا ایک اصول ہے کہ اس میں کام اور آرام کا تناسب ہونا چاہئے۔ خاندان انسانی زندگی کا ایک ایسا مرکز ہے کہ جس کی مضبوطی معاشرے کو استحکام بخشتی ہے۔ دنیا نے یہ اصول طے کیا ہے کہ 24 گھنٹوں کو تین حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ پہلے آٹھ گھنٹے کام، اگلے آٹھ گھنٹے اپنے خاندان کے ساتھ گزارنے کے لئے وقف اور اگلے آٹھ گھنٹے کی نیند۔ یہ تقسیم درحقیقت فطرت کے اصولوں کی غماز، ماہرین نفسیات کہتے ہیں وہ لوگ جو اس تقسیم سے ہٹ کر زندگی گزارتے ہیں، انہیں کئی اقسام کے نفسیاتی عوارض لاحق ہوجاتے ہیں جبکہ طبی مسائل کا بھی وہ شکار ہوتے ہیں۔ اب یہ وہ باتیں ہیں جو ہمارے سماج میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، جبکہ ترقی یافتہ معاشروں میں ان پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ ہمارے چیمبر آف کامرس، چیمبر آف اسمال ٹریڈرز یا تاجروں کی تنظیمیں کبھی اس نکتے پر سوچنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں۔ وہ تاجروں کے دباؤ پر فیصلے کرتی ہیں۔ توانائی کی کمی کا روگ ہمارے لئے کوئی ایک دو دن کی بات نہیں ہے۔ یہ ہمارا مستقل دُکھ ہے کیونکہ ہم ایٹمی ملک ہونے کے باوجود اس سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت یا پھر اجازت نہیں رکھتے۔ دیگر ذرائع سے بھی ہم نے اپنے ہائیڈل پاور پراجیکٹس پر توجہ نہیں دی۔ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی صورت میں ہم نے وہ سفید ہاتھی پالے ہیں کچھ جو ہمیں جونکوں کی طرح چوس رہے ہیں۔ ایسے میں اگر بجلی کی بچت کا یہ آپشن اختیار کریں جو ہمارے سماجی ڈھانچے کی مضبوطی کا بھی باعث بنے گا تو اس میں کیا حرج ہے۔ صرف سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ سب مرحلے آسان ہوتے چلے جاتے ہیں، تھوڑی سی قربانی ایک نئے سفر کا آغاز بن سکتی ہے۔

بشکریہ: روزنامہ پاکستان


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے