جنگ پر خرچ، انسان محروم – دردانہ نجم

شیئر کریں

مارچ 2026 کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ و کشیدگی صرف عسکری محاذ پر ہی تباہ کن ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے مالی اثرات بھی ہولناک حد تک وسیع ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایسی جنگ پر امریکہ کو روزانہ تقریباً ایک سے دو ارب ڈالر تک خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ ابتدائی سو گھنٹوں میں ہی تقریباً 3.7 ارب ڈالر خرچ ہونے کا اندازہ لگایا گیا، جبکہ تخمینے بتاتے ہیں کہ پہلے چند ہفتوں میں یہ رقم 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف جنگی کارروائیوں، میزائلوں، فضائی حملوں، دفاعی نظاموں اور لاجسٹک اخراجات تک محدود ہیں۔ اس میں عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عام صارفین پر پڑنے والے بوجھ کو شامل کیا جائے تو نقصان کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے۔

جنگ کے اخراجات کی یہ رفتار اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ جدید جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ دولت سے لڑی جاتی ہیں۔ ایک جدید میزائل کی قیمت لاکھوں ڈالر ہوتی ہے، جبکہ فضائی حملوں میں استعمال ہونے والے درست نشانہ لگانے والے ہتھیار اور دفاعی نظام کروڑوں ڈالر روزانہ نگل جاتے ہیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں سب سے زیادہ اخراجات ان مہنگے ہتھیاروں پر آتے ہیں جو دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ان میں ڈیفنس شیلڈ وغیرہ شامل ہیں، گویا ہر دن کی جنگ انسانی ترقی کے بے شمار مواقع کو نگل جاتی ہے۔

یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی سرمایہ جنگ پر خرچ ہونے کے بجائے دنیا کے محروم انسانوں پر خرچ کیا جاتا تو کیا منظر ہوتا؟ ایک ارب ڈالر روزانہ کی رقم دنیا کے غریب ترین خطوں میں کروڑوں انسانوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ یہ رقم ایسے خطوں میں جہاں لوگ بھوک، بیماری، جہالت اور بے روزگاری کا شکار ہیں، امید کی نئی کرن بن سکتی ہے۔دنیا کے مختلف حصوں میں کروڑوں انسان ایسے ہیں جو پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اربوں لوگ بنیادی طبی سہولیات تک رسائی نہیں رکھتے۔ اگر ایک دن کی جنگی لاگت یعنی ایک ارب ڈالر صرف صاف پانی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے تو لاکھوں خاندانوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جا سکتا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں بچے گندہ پانی پینے کی وجہ سے بیمار ہوتے ہیں، وہاں یہ سرمایہ صحت مند نسل کی بنیاد بن سکتا ہے۔لیکن لڑنے والے یہ کب دیکھتے ہیں، ان کے اندر تو مخالف کو تباہ کرنے کی ضد ہوتی ہے جس میں انسانوں کی ترقی کے خواب بھسم ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح تعلیم کے میدان میں یہ رقم انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ ایک ارب ڈالر سے ہزاروں سکول تعمیر کیے جا سکتے ہیں، لاکھوں بچوں کو کتابیں، اساتذہ اور تعلیمی سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ جن بچوں کے ہاتھوں میں آج قلم کے بجائے مشقت کا بوجھ ہے، ان کے لیے یہی رقم روشن مستقبل کی کنجی بن سکتی ہے۔ غربت کا سب سے بڑا علاج تعلیم ہے، مگر افسوس کہ دنیا کی بڑی طاقتیں تعلیم کے بجائے تباہی پر سرمایہ لگا رہی ہیں۔

صحت کے شعبے میں بھی یہی رقم معجزہ دکھا سکتی ہے۔ ایک ارب ڈالر سے سینکڑوں ہسپتال تعمیر کیے جا سکتے ہیں، ہزاروں ڈاکٹروں اور نرسوں کو تربیت دی جا سکتی ہے، لاکھوں مریضوں کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔ دنیا کے کئی غریب ممالک میں مائیں زچگی کے دوران صرف اس لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں کہ بنیادی طبی سہولتیں موجود نہیں ہوتیں۔ اگر جنگی بجٹ کا معمولی حصہ بھی ان پر خرچ کیا جائے تو ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

روزگار کے میدان میں بھی یہ سرمایہ انقلاب لا سکتا ہے۔ ایک ارب ڈالر چھوٹے کاروباروں، فنی تربیت کے مراکز اور روزگار سکیموں پر لگایا جائے تو لاکھوں نوجوانوں کو باعزت روزگار مل سکتا ہے۔ بے روزگاری نہ صرف غربت بڑھاتی ہے بلکہ سماجی بے چینی، جرائم اور انتہا پسندی کو بھی جنم دیتی ہے۔ جب نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا تو معاشرے عدم استحکام کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر جنگ پر خرچ ہونے والی دولت روزگار پر لگے تو معاشرے امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔خوراک کے شعبے میں بھی اس سرمایہ کاری کے حیران کن نتائج نکل سکتے ہیں۔ ایک ارب ڈالر سے لاکھوں خاندانوں کو خوراک فراہم کی جا سکتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور بھوک ان کی نشوونما کو روک دیتی ہے۔ جنگ پر خرچ ہونے والی ایک دن کی رقم لاکھوں بھوکے بچوں کے لیے غذا کا بندوبست کر سکتی ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر پر سوال ہیں۔ یہ صورتحال ایک اخلاقی تضاد کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایک طرف دنیا کی بڑی طاقتیں انسانی حقوق، ترقی اور فلاح کے دعوے کرتی ہیں، دوسری طرف وہی طاقتیں جنگ پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ اگر انسان کی جان قیمتی ہے تو پھر جنگی بجٹ ترقیاتی بجٹ سے کہیں زیادہ کیوں ہے؟ اگر دنیا میں امن مطلوب ہے تو ہتھیاروں کی دوڑ کیوں جاری ہے؟

امریکہ اور ایران کی جاری جنگ پر خرچ ہونے والی رقم ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ترجیحات کیا ہونی چاہئیں۔ کیا زیادہ اہم ہے: مزید میزائل، مزید بمبار طیارے اور مزید تباہی؟ یا مزید سکول، مزید ہسپتال، مزید روزگار اور مزید امید؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں مسائل کا مستقل حل نہیں دیتیں، بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ مگر تعلیم، صحت اور معاشی مواقع انسانیت کو پائیدار امن کی طرف لے جاتے ہیں۔

اگر جنگ پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر محروم انسانوں کی فلاح پر خرچ ہوں تو صرف افراد کی زندگی نہیں بدلے گی بلکہ پوری دنیا زیادہ مستحکم ہو سکتی ہے۔ غربت کم ہو گی، بیماریوں میں کمی آئے گی، جہالت گھٹے گی اور امن کے امکانات بڑھیں گے۔ یہ سرمایہ دنیا کے پسماندہ علاقوں میں امید، عزت اور خود کفالت پیدا کر سکتا ہے۔اصل المیہ یہی ہے کہ دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں، کمی صرف ترجیحات کی ہے۔ جب ایک دن کی جنگی لاگت لاکھوں انسانوں کی تقدیر بدل سکتی ہو تو پھر جنگ کا انتخاب انسانیت کی ناکامی بن جاتا ہے۔ دنیا اگر واقعی بہتر مستقبل چاہتی ہے تو اسے بارود کے بجائے انسان پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ کیونکہ بم وقتی فتح دے سکتے ہیں، مگر انسان میں سرمایہ کاری دائمی امن، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بنتی ہے۔

بشکریہ: 92نیوز


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے