سوئیڈن کا تعلیمی نظام میں بڑا فیصلہ، اسکولوں کو دوبارہ روایتی کتابوں اور کاپیوں کی طرف لانے کی تیاری

شیئر کریں

سوئیڈن نے اپنی تعلیمی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسکولوں میں ڈیجیٹل تعلیم کے استعمال کو محدود کرنے اور روایتی تدریسی ذرائع کی طرف واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت تعلیمی اداروں میں اسکرین پر مبنی سیکھنے کے بجائے کتابوں، کاپیوں اور قلم جیسے کلاسیکی تدریسی وسائل کو دوبارہ مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے لیے ایک باضابطہ مہم بھی شروع کی گئی ہے جس کا مقصد تعلیمی نظام کو دوبارہ تحریری اور روایتی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

حکام کے مطابق پری اسکول سطح پر ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ کم عمر بچوں کو ٹیبلٹس اور دیگر اسکرین ڈیوائسز فراہم کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے پر بچوں کی بنیادی سیکھنے کی صلاحیتوں کو اسکرین کے بجائے عملی اور تحریری سرگرمیوں کے ذریعے بہتر بنایا جائے گا۔

تاہم اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض ٹیکنالوجی ماہرین اور اساتذہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیجیٹل تعلیم کو زیادہ حد تک محدود کیا گیا تو طلبہ میں جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتوں کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں روزگار کے مواقع اور ملکی معیشت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

اس کے باوجود سوئیڈن کی حکومت کا مؤقف ہے کہ تعلیم میں توازن ضروری ہے اور ابتدائی تعلیمی مراحل میں روایتی طریقہ تدریس بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ ڈیجیٹل مہارتیں بعد کے مراحل میں بہتر انداز میں سکھائی جا سکتی ہیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے