ٹیلی گرام سربراہ نے یورپی یونین کی حفاظتی ایپ کو غیر محفوظ قرار دے دیا

شیئر کریں

برسلز: یورپی یونین کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائی گئی عمر کی تصدیق کرنے والی ایپ کو سائبر ماہرین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق ٹیلی گرام کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایپ سیکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی کمزور ہے اور اسے صرف 2 منٹ کے مختصر وقت میں ہیک کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی تیار کردہ اس ایپ میں بنیادی تکنیکی نقائص موجود ہیں جو صارفین کی پرائیویسی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایپ بچوں کی حفاظت کے بجائے صارفین کی آزادی سلب کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔

ٹیلی گرام سربراہ نے مزید کہا کہ یورپی بیوروکریٹس دراصل ایسے ہی ہتھکنڈوں کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں لوگوں کی نگرانی کر سکیں۔ اس ایپ کا مقصد عوامی تحفظ کے نام پر ذاتی آزادیوں کو محدود کرنا اور ان پر قدغن لگانا ہے۔ یہ صورتحال ڈیٹا کی حفاظت کے دعووں پر بھی کئی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

یاد رہے کہ یورپی کمیشن نے گزشتہ ہفتے ہی اس ایپ کا اعلان کیا تھا اور اسے آن لائن پلیٹ فارمز کو جوابدہ بنانے کے لیے اہم قرار دیا تھا۔

حکام کا موقف تھا کہ یہ ایپ تجارتی مفادات کے مقابلے میں بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط نظام فراہم کرے گی، تاہم اس دعوے کے فوراً بعد ہونے والی تنقید نے حکومتی منصوبے کو مشکوک بنا دیا ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیکیورٹی کے بنیادی معیار ہی اتنے کمزور ہیں تو یہ ایپ کسی بھی طرح محفوظ نہیں سمجھی جا سکتی۔

یورپی یونین کو اب ان الزامات کا سامنا ہے کہ آیا اس ایپ کو متعارف کرانے سے پہلے اس کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی تھی یا نہیں۔ اگر یہ نقائص دُور نہیں کیے گئے تو صارفین کا ڈیٹا اور نجی معلومات ہیکرز کی پہنچ سے دور نہیں رہ سکیں گی جو مستقبل میں بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے