ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر خاموشی اختیار کے باعث بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس بحران میں پاکستان ایک کلیدی فریق کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی سفارتی کوششوں کے باعث ایک بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ پاکستان کے بطور ثالث کردار پر بھارتی اپوزیشن نے شدید ردِعمل اور غصے کا اظہار کیا ہے۔بھارتی کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر بھارت سے کہیں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ بی جے پی کے حامی حلقوں میں اسرائیل کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کا اسلام مخالف تشخص ہے، اس پر بھی مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔
امبانی کی دولت 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب 70 کروڑ ڈالر رہ گئی تھی۔ دولت کم ہونے پر ایپسٹین نے مبینہ طور پر دوستی کے طور پر مفت مالی مشورے فراہم کیے۔انیل امبانی نے بھارتی انتخابات کے نتائج کے موقع پر تئیس مئی 2019 کو ایپسٹین کے مین ہٹن گھر کا دورہ بھی کیا۔ یہ ملاقات ایپسٹین کی جنسی اسمگلنگ کیس میں گرفتاری سے چند ہفتے قبل ہوئی تھی۔
مودی کی اسرائیل نواز جارحانہ پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر عدم اعتماد اور انتہا پسند ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان کے ثالثی کے کردار میں فیلڈ مارشل کی قیادت اور صلاحیت نے اہم کردار ادا کیا، پاکستان نے حالیہ جنگ کے دوران مکمل طور پر غیر جانبدار مؤقف قائم رکھتے ہوئے دونوں فریقین کا اعتماد جیتا۔بھارتی میجر جنرل (ر) یشپال مور کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران پر حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی شدید مذمت کی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر نے لبنان حملے پر بھی بھرپور انداز میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔بہترین اور متوازن حکمت عملی پاکستان کو سعودی عرب اور چین کیساتھ بھی بہترین تعلقات میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
عالمی جریدے بلومبرگ کا کہنا ہے ایران میں بڑھتا ہوا بحران بھارتی معیشت کے لیے غیر یقینی صورتِحال پیدا کر رہا ہے، ایران پر حملے سے بھارت کو تیل کی قیمتوں اور تجارتی خسارے میں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہود و ہنود گٹھ جوڑ نے بھارتی معیشت اور عوامی مفادات کو داؤ پر لگادیامودی سرکار کی ترجیحات میں بھارتی عوام کا مفاد نہیں بلکہ ’اسرائیل نوازی‘شامل ہے۔ذاتی مفادات کے لیے دوغلے مودی کا ایران کے خلاف اسرائیل سے گٹھ جوڑ کے منفی اثرات بھی بھارتی عوام بھگتنے لگے ہیں۔ کسی بھی طویل مدتی خلل سے بھارت کے مالی وسائل پر شدید دباؤ کا قوی امکان ہے۔بھارت میں گھریلو گیس کی قلت پہلے ہی صارفین کو مشکلات سے دوچار کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث بھارتی برآمدات اور خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر شدید خطرے میں ہیں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھارت کی اسٹاک مارکیٹ اب تک تقریباً 10 فیصد تک گر چکی ہے۔
عالمی سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساکس نے بھی خبردار کیا ہے کہ آئندہ سال کے دوران بھارت کو زیادہ مہنگائی اور کمزور کرنسی کا سامنا ہوگا۔ مودی نے نیتن یاہو سے سفاک نظریاتی وابستگی کے باعث اسرائیل کا ساتھ دے کر اپنے ملک کے معاشی مفادات کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل گرتی معیشت، عوامی بوجھ اور تیل و گیس کی قلت اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی سرکار کی ترجیحات میں بھارتی عوام کا مفاد نہیں بلکہ ’اسرائیل نوازی‘شامل ہے۔
بشکریہ: روزنامہ پاکستان

