خلیجی خطے میں اس وقت تیزی سے اہم تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔آبنائے ہرمز میں امریکا کے مہنگے ترین ایف۔35 طیارے ایران کے سستے ڈرونز گرا رہے ہیں۔ایسے میں عمان ایک ذمہ دار سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔دوسری طرف امریکا نے شام میں کردوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ وہ کرد جو داعش کے خلاف ڈٹ کر لڑے تھے اب شامی حکومت اور داعش کے رحم و کرم پر ہیں۔لیکن ہم یہاں پاکستان کو درپیش ایک اور خطرے کی بات کریں گے جو چند عناصر نے ہمارے ملک کیلئے خود پیدا کر دیا ہے۔وہ خطرہ یہ ہے کہ تیل سے مالا مال خلیجی خطہ آہستہ آہستہ ایک ‘‘منی انڈیا’’ بنتا جا رہا ہے۔ پاکستانی نوجوان اس خطرے کا مقابلہ کر سکتا ہے مگر ہم نے اپنے نوجوانوں کو اپنے ملک میں پڑھنے یا آگے بڑھنے کے مواقع نہیں دیے۔ پھر ہم نے ان کے روزی روٹی کمانے کیلئے خلیج جانے کے راستے بھی مشکل بنا دیے۔ اگر ہم انہیں خلیج میں صرف محنت مزدوری بھی کرنے دیں تو ایک وقت میں ہم خلیج سے انڈیا کی بالادستی کم کرنے کا قابل ہو جائیں گے۔
آج خلیج میں بھارتی سب سے امیر غیر ملکی برادری بن چکے ہیں۔ بحرین میں ڈاکٹر روی پلئی آر پی گروپ کے چیئرمین ہیں۔ ان کی دولت تقریباً 4.2 ارب ڈالر ہے۔ قطر میں کیرالہ سے تعلق رکھنے والے ایم اے یوسف علی لولو گروپ کے سربراہ ہیں۔ ان کی دولت 6.9 سے 7.3 ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ وہ اور ان کے شراکت دار کویت میں بھی امیر ترین بھارتیوں میں شامل ہیں۔ یو اے ای کی وزارتِ معیشت اور سیاحت فخر سے رضوان سجن کی تصاویر لگاتی ہے۔ وہ اماراتی شخصیات سے ہاتھ ملا رہے ہوتے ہیں۔ رضوان سجن خلیج کے بڑے بھارتی سرمایہ کاروں میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر روی پلئی سعودی عرب میں بھی امیر ترین بھارتی ہیں۔ ان کی دولت تقریباً 5 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔
اعداد و شمار کے لحاظ سے خلیج میں ایک پاکستانی کے مقابلے میں تقریباً دس بھارتی موجود ہیں۔ خلیج میں بھارتی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے۔ جبکہ پاکستانی صرف آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔ عرب نیوز کے سینئر ایڈیٹر ارنب نیل سین گپتا لکھتے ہیں کہ سعودی عرب، قطر، عمان اور یو اے ای اب STEM شعبوں کے ماہرین کے لیے مقناطیس بن چکے ہیں۔ STEM سے مراد "سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی” ہے۔ یہ وہ فیلڈ ہے جس کی نوکریاں امریکا اور یورپ میں سب سے زیادہ تنخواہ والی ہیں۔ ان ممالک میں ان شعبوں سے بڑی تعداد میں لوگ فارغ کیے گئے ہیں۔ اب وہ خلیج کا رخ کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی پریشان ہیں کہ STEM شعبوں میں بھارتیوں کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ جب یہی بھارتی لوگ خلیج میں اعلیٰ عہدوں پر پہنچیں گے تو بھارت کی طاقت مزید بڑھے گی۔ دس بھارتیوں کے درمیان کام کرنے والا ایک پاکستانی شاذ و نادر ہی کسی اعلیٰ STEM عہدے پر نظر آتا ہے۔ زیادہ تر پاکستانی فرش صاف کرتے ہیں، عمارتیں بناتے ہیں، سڑکیں صاف کرتے ہیں، ٹرک چلاتے ہیں، نالیاں کھولتے ہیں، اے سی ٹھیک کرتے ہیں،اور گاڑیاں دھوتے ہیں۔ لیکن ان کی دوسری نسل اچھی تعلیم حاصل کر لیتی ہے اور بھارتیوں سے مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔
براہِ کرم محنت مزدوری کیلئے خلیج جانے والے ان نوجوانوں کا مذاق نہ اڑائیں۔ ائیر پورٹس پہ انہیں کیمرے کے سامنے کھڑا کر کے یہ مت پوچھیں کہ انہوں نے کس ایجنٹ کو مزدوری دلانے کے عوض کتنے پیسے دیے۔ وہ ہوائی اڈے تک انگاروں پہ چل کے آتے ہیں۔ آپ یہ نہیں سمجھ سکتے۔ ان کا مستقبل ان کی آنکھوں کی طرح روشن ہے مگر آپ ان کی کامیابی نہیں دیکھ سکتے۔ میں دیکھ سکتا ہوں۔ کیونکہ میں خود ٹرک لوڈ کرتا رہا ہوں، دفاتر میں برتن دھوتا رہا ہوں، اور میں نے ویلڈنگ اور لیتھ مشین پر بھی کام کیا ہے۔ میرے خراد مشین کے استاد سجاد علی شاہ پنجابی میں کہتے تھے:’’جو کام تم کرتے ہو، وہی تمہیں سکھاتا ہے کہ کام کیسے ہوتا ہے۔ ‘‘یہ سبق آج کے پاکستانی نوجوانوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔کچھ مہینے پہلے جو کچھ پاکستانی ہوائی اڈوں پر ہونے لگا اس نے ان مضبوط نوجوانوں کو توڑ کے رکھ دیا اور دنیا نے انہیں سپاہیوں کے سامنے روتے ہوئے محنت مزدوری کیلئے جانے کی بھیک مانگتے دیکھا۔ یہ غیر معمولی رویہ رفتہ رفتہ معمول بن گیا۔ پھر یہ نظام یعنی "سسٹم” بنا۔ اور اب یہ قانون بن چکا ہے۔ اس سارے عمل میں کوئی ان نوجوانوں کا پرسان حال نہ ہوا۔میرے ایک دوست کا تجربہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ناقابلِ بیان ہے۔ وہ دوحہ جا رہا تھا۔ اس کی فیملی وہاں منتظر تھی۔ اور وہ یہاں گڑگڑا رہا تھا کہ اسے جانے دیا جائے۔ ایک اور دوست نے یہ سب دیکھتے ہوئے خلیج سے پاکستان آنے کا پروگرام منسوخ کر دیا۔ یوں وہ اب اپنی ماں، خاندان اور دوستوں سے دور ہو گیا۔ یہ زمین ہمارا واحد گھر ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو بہتر مستقبل یا علم حاصل کرنے کیلئے کسی کا راستہ روکے۔ یہی اسلام کی تعلیم بھی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ علم اور رزق کے حصول کیلئے دنیا میں گھومو پھرو۔
ہاں مگر مجرموں کو ضرور روکا جائے۔ دبئی لیکس کے مطابق پاکستانیوں کی یو اے ای میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی جائیداد ہے جبکہ بھارتیوں کی وہاں 17 ارب ڈالر کی جائیدادیں ہیں۔ جو لوگ قومی دولت لوٹ کر باہر لے گئے انہیں ضرور پکڑا جائے۔ وہ پاکستانی بھی واپس بلائے جائیں جنہوں نے ضیا، مشرف اور ایوب جیسے آمروں سے جان کے خطرے کے نام پرمغرب میں پناہ لی۔ اب ان کی پناہ لینے کے سارے جواز منوں مٹی تلے دفن ہیں لہذا وہ مزید جھوٹ کی زندگی نہ گزاریں یا پھر سب بتائیں کہ ان کی جان کو ڈکٹیٹرز سے نہیں بلکہ بھوک اور بے روزگاری سے خطرہ تھا۔ لیکن نوجوانوں کو مت روکیے۔ وہ دوست جو کسی طرح ایئرپورٹ پار کر گیا اس نے مجھے دوحہ ایئرپورٹ کی تصویر بھیجی جہاں پاکستانیوں کو الگ لائن میں کھڑا کیا گیا تھا تاکہ ان کی الگ سے پوچھ پرتیت ہو۔ اس نے کہا: بھارتی اس صورتحال پر خوش ہیں۔
ہم خود خلیج کو منی انڈیا بنا رہے ہیں۔ ہم اپنے نوجوانوں کو خلیج میں ناکام کر رہے ہیں۔ بھارتی سفارت کار خلیج میں اپنی برادری سے فوری رابطے میں رہتے ہیں۔ پاکستانی حکمران سال بھر خلیج جاتے رہتے ہیں، خاص طور پر سعودی عرب۔ لیکن وہاں بھی انہیں وہی لوگ گھیرے رکھتے ہیں جو اسلام آباد اور لاہور میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بھارتی رہنما خلیج نسبتاً کم جاتے ہیں۔ لیکن جب جاتے ہیں تو اپنی کمیونٹی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ عمران خان شاید واحد رہنما تھے جو خلیج میں پاکستانیوں سے گھل مل جاتے تھے۔ انہوں نے محمد بن سلمان سے سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی کی درخواست بھی کی تھی۔ شاید وہ ایک سادہ حقیقت سمجھتے تھے: اگر پاکستان خلیج میں اپنے نوجوانوں کو ناکام کرے گاتو بھارت جیت جائے گا۔

